Balochistan attacks: Security Council strongly reacts, appeals to Pakistan for cooperation; 197 terrorists killed in retaliation
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)جیو نیوزنے رپورٹ کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بلوچستان میں مختلف مقامات پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں گھناؤنے اور بزدلانہ قرار دیا ہے۔ سلامتی کونسل نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں تاکہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات مؤثر بنائے جا سکیں۔
سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ حملوں کے ذمہ داروں کے ساتھ ساتھ منصوبہ سازوں، سہولت کاروں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو بھی جواب دہ ٹھہرایا جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ کونسل کے اراکین نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور حکومتِ پاکستان سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا بھی کی۔
یہ بیان بلوچستان میں حالیہ حملوں کے چند روز بعد سامنے آیا، جن میں رپورٹس کے مطابق 22 سیکیورٹی اہلکار اور 36 شہری جاں بحق ہوئے۔ ان حملوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی۔ حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے صوبے بھر میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کیں، جبکہ ذرائع کے مطابق تین روز میں 12 شہروں میں ہونے والے مربوط حملوں کے بعد جوابی آپریشن میں 197 دہشت گرد مارے گئے، جنہیں “فتنہ الہندستان” سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔
31 جنوری کو کوئٹہ سمیت متعدد علاقوں میں حملے کیے گئے، جن میں کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا تھا کہ صوبے کے مختلف حصوں پر تقریباً 200 دہشت گردوں نے حملہ کیا اور ان میں سے بیشتر کو مار دیا گیا یا پسپا کر دیا گیا۔
سلامتی کونسل نے واضح کیا کہ دہشت گردی ہر شکل میں جرم اور ناقابلِ جواز ہے، چاہے اس کے پیچھے کوئی بھی مقصد ہو۔ بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی انسانی حقوق، پناہ گزین اور انسانی ہمدردی قوانین کی پاسداری ضروری ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں حالیہ برسوں کے دوران اضافہ ہوا ہے، جبکہ حکام کے مطابق سرحدی صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان ان حملوں سے زیادہ متاثر رہے ہیں۔




