
جنوبی پنجاب میں دائمی کمر درد تیزی سے عام ہونے لگا،لاکھوں مریض علاج سے محروم
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹربیون کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہا کہ جنوبی پنجاب میں دائمی کمر درد سب سے عام صحت کے مسائل میں سے ایک بنتا جا رہا ہے جہاں ماہرین کے مطابق کلینکس میں آنے والے تقریباً 20 فیصد مریض ریڑھ کی ہڈی سے متعلق شکایات رکھتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی اس بیماری کے باوجود خطے میں تاحال کوئی خصوصی اسپائن کیئر سینٹر موجود نہیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں مریض مناسب علاج سے محروم رہ جاتے ہیں، اسپائن سرجن ڈاکٹر محمد محمود احمد نے خبردار کیا۔
ڈاکٹر محمود کے مطابق کمر درد کی کئی وجوہات ہوتی ہیں جن میں بائیو مکینیکل عوامل، نفسیاتی پہلو اور درد سے متعلق دیگر مسائل شامل ہیںاور یہ تمام مسائل بروقت ماہر کے ذریعے سنبھالے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کمر کا علاج اتنا مشکل نہیں جتنا لوگ سمجھتے ہیں۔ اصل مسئلہ غلط معلومات ہیں، میڈیکل سائنس نہیں۔انہوں نے زور دیا کہ تقریباً 90 فیصد مریض صرف ادویات اور باقاعدہ ورزش سے بہتر ہو جاتے ہیں، بشرطیکہ انہیں ماہرین کے ذریعے صحیح علاج ملے۔
ان کا کہنا تھا اگر مریض بے بنیاد مشوروں پر چلنے کے بجائے مستند ماہرین سے رجوع کریں تو وہ بہترین ریکوری حاصل کر سکتے ہیں۔
خصوصی سہولیات کی شدید کمی
ڈاکٹر محمود نے نشاندہی کی کہ جنوبی پنجاب میں ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں یا اس سے متعلق بیماریوں کے لیے کوئی مخصوص اسپتال موجود نہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے مریض درست تشخیص اور مناسب فالو اپ سے محروم رہ جاتے ہیں، جو طویل المدتی پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے۔
ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن کا خوف بے بنیاد
انہوں نے عوام میں موجود ریڑھ کی ہڈی کی سرجری سے وابستہ خوف کو بلاجواز قرار دیا۔جدید اسپائن سرجری نہایت محفوظ ہے اور جدید ٹیکنالوجی سے سپورٹڈ ہے۔ لیکن کمر درد اور سرجری سے متعلق پھیلی ہوئی غلط فہمیاں مریضوں میں غیر ضروری خوف پیدا کرتی ہیں۔ ان غلط تصورات کو ختم کرنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر محمود کے مطابق دیر سے علاج کرنے کے سبب کئی لوگوں میں جھکی ہوئی کمر یا درد پیدا ہو جاتا ہے۔ایسے مسائل سے بچنے کے لیے مریضوں کو تربیت یافتہ اسپائن ماہرین سے رجوع کرنا چاہیے۔
حکومتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنوبی پنجاب میں فوری طور پر خصوصی اسپائن یونٹس قائم کیے جائیں۔ ان کے بغیر مریض قابلِ علاج معذوری کا شکار ہوتے رہیں گے۔
علاج کے محفوظ طریقے
ڈاکٹر محمود نے بتایا کہ وہ تجربہ کار فزیوتھراپسٹ ٹیم کے ساتھ کام کرتے ہیں جو یہ طے کرتی ہے کہ مریض کو فزیوتھیراپی، دوا یا سرجری میں سے کون سا طریقہ ضروری ہے۔ہر مریض مختلف ہوتا ہے، مگر یہ تینوں طریقہ علاج محفوظ اور مؤثر ہیں—اگر صحیح وقت پر تجویز کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کمر درد کے کیس قابلِ علاج ہوتے ہیں۔اسپائن سرجری محفوظ ہے، فزیوتھراپی مؤثر ہے، اور ادویات اکثر مریضوں کو آرام دیتی ہیں۔ اصل مسئلہ غلط فہمیاں ہیں جو خوف پھیلاتی ہیں۔ صحیح رہنمائی سے مریض صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔
مہنگے آلات اور عوامی مشکلات
ڈاکٹر محمود کے مطابق ریڑھ کی ہڈی کے علاج کے لیے درکار خصوصی امپلانٹس اور تکنیکی سہولیات بہت مہنگی ہیں اور جنوبی پنجاب کے بہت سے خاندان ان کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے، اس لیے عوام کے لیے سستے اور سرکاری اسپائن کیئر مراکز کا قیام نہایت ضروری ہے۔






