
پاکستان میں عدم مساوات بحران کی سطح پر پہنچ چکی ہے،آکسفیم رپورٹ
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک نئی آکسفیم رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی دولت مند ترین 10 فیصد آبادی قومی آمدنی کے 42 فیصد حصے پر قابض ہے۔ یہ ارتکازِ دولت ایک ایسے علاقائی رجحان کی عکاسی کرتا ہے جو ماحولیاتی تباہ کاریوں اور ڈیجیٹل فرق کے باعث مزید گہرا ہو گیا ہے۔
پاکستان میں امیر ترین 10 فیصد افراد ملک کی مجموعی آمدنی کے 42 فیصد کے مالک ہیں یہ شرح ایشیائی اوسط سے کم ضرور ہے، مگر اتنی زیادہ ہے کہ عام زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہے۔ یہ طے کرتی ہے کہ کون بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرے گا، کون صاف ہوا میں سانس لے گا، اور تباہ کن سیلابوں کے بعد کون اپنے گھر دوبارہ تعمیر کر پائے گا۔ یہ دولت کی تقسیم نہ صرف حال بلکہ مستقبل کی سمت بھی طے کرتی ہے۔
یہ دولت کا ارتکاز آکسفیم انٹرنیشنل کی رپورٹ “ایک غیر مساوی مستقبل: گرم ہوتی دنیا اور ڈیجیٹل دور میں انصاف کے لیے ایشیا کی جدوجہد” میں ظاہر کیا گیا ہے، جو پاکستان کی معیشت میں موجود ساختی عدم مساوات کو بے نقاب کرتی ہے۔ پورے براعظم ایشیا میں امیر ترین 10 فیصد افراد قومی آمدنی کا 60 سے 77 فیصد حصہ حاصل کرتے ہیں، جب کہ غریب ترین نصف آبادی کو صرف 12 سے 15 فیصد حصہ ملتا ہے۔ بھارت اور چین جیسے ممالک میں تو صرف ایک فیصد امیر ترین طبقہ تقریباً نصف قومی دولت پر قابض ہے۔
اکتوبر 2025 میں جاری کی گئی اس رپورٹ میں ایشیا کے امیروں اور غریبوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ یہ فرق نہ صرف مالیاتی نظام اور اشرافیہ کے تسلط کی وجہ سے بڑھا ہے بلکہ ماحولیاتی جھٹکوں اور ڈیجیٹل معیشت تک غیر مساوی رسائی نے بھی اسے مزید گہرا کر دیا ہے۔ رپورٹ کے 50 صفحات میں ایک ایسا منظرنامہ سامنے آتا ہے جو پاکستانی عوام کے لیے جانا پہچانا ہے — ایک چھوٹا سا طبقہ جو ہر بحران سے محفوظ ہے، اور اکثریت جو بڑھتی ہوئی مہنگائی، کمزور سرکاری خدمات اور ٹیکنالوجی تک محدود رسائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔






