US strategic review considers removing defense system from South Korea
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی چوسن ڈیلی کی خبر کے مطابق ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی آپریشن ایپک فیوری کے ممکنہ طویل دورانیے کے پیش نظر جنوبی کوریا میں تعینات امریکی دفاعی نظام کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیاں چار سے پانچ ہفتے جاری رہ سکتی ہیں، تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق اگر یہ مدت بڑھتی ہے تو اضافی عسکری وسائل درکار ہوں گے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی افواجِ کوریا کے زیر استعمال پیٹریاٹ3 میزائل بیٹریاں اور تھاڈ (ٹرمینل ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس) سسٹم ممکنہ طور پر مشرقِ وسطیٰ بھیجے جا سکتے ہیں۔ گزشتہ سال ایران کی ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خدشے کے باعث آٹھ میں سے تین پیٹریاٹ بیٹریاں عارضی طور پر خطے میں تعینات کی گئی تھیں، جن کے ساتھ 500 سے زائد اہلکار بھی شامل تھے۔ یہ اہلکار اکتوبر میں واپس جنوبی کوریا پہنچ گئے تھے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمزنے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ گزشتہ سال کی 12 روزہ جھڑپوں کے دوران تقریباً 150 تھاڈ میزائل استعمال کیے گئے، جس کے باعث طویل جنگ کی صورت میں میزائل ذخائر پر دباؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آن گیو بیک اور امریکی نائب وزیر دفاع برائے پالیسی ایلبریج کولبی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں ایران سے متعلق جاری صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے بدلتی عالمی سیکیورٹی صورتحال کے باوجود اتحاد کی مضبوطی کا اعادہ کیا گیا۔



