US demands immediate release of imprisoned American citizens from Taliban
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکا نے افغانستان کو باضابطہ طور پر اسٹیٹ اسپانسر آف رانگ فل ڈیٹینشن قرار دیتے ہوئے طالبان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غیر ملکی شہریوں کو سیاسی دباؤ کے لیے بطور یرغمالی استعمال کر رہے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کی شام جاری بیان میں کہا کہ افغانستان کو اس فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 27 فروری کو ایران کو بھی اسی نوعیت کا درجہ دیا گیا تھا، جس کے بعد افغانستان اس فہرست میں شامل ہونے والا دوسرا ملک بن گیا ہے۔
روبیو نے امریکی شہریوں کو افغانستان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ طالبان امریکیوں اور دیگر غیر ملکیوں کو غیر منصفانہ طور پر حراست میں لے رہے ہیں، اس لیے افغانستان جانا محفوظ نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طالبان افراد کو اغوا کر کے تاوان یا سیاسی رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں قید امریکی شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے ڈینس کوائل اور محمود حبیبی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ انہیں اور دیگر امریکیوں کو بلا تاخیر آزاد کیا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ طالبان کے رویے کو دیکھتے ہوئے افغانستان کے ساتھ عالمی برادری کے تعاون اور مالی امداد کا ازسرِ نو جائزہ لینا ضروری ہے۔
انہوں نے طالبان کی جانب سے خواتین پر عائد پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقامی خواتین ملازمین کو بھی دفاتر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
امریکا کے اس اعلان اور سلامتی کونسل میں دیے گئے بیانات پر طالبان حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔





