US begins deportation of Iranian citizens, human rights concerns rise
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران میں جاری شدید حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد پہلی مرتبہ ایرانی شہریوں کی ملک بدری کی پرواز روانہ کی، جس کے ذریعے کم از کم 14 ایرانیوں کو امریکا سے واپس ایران بھیج دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اتوار کو روانہ ہونے والی پرواز میں ابتدا میں درجنوں افراد کو شامل کرنے کا منصوبہ تھا، تاہم خسرہ کے انفیکشن کے خدشے کے باعث متعدد ایرانی شہریوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا، جس کے نتیجے میں وہ اس پرواز میں شامل نہ ہو سکے۔ یہ ایران کے لیے روانہ ہونے والی تیسری ڈی پورٹیشن پرواز تھی، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک نایاب انتظامی سمجھوتے کے بعد ممکن ہو سکی، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات موجود نہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ سیکیورٹی وجوہات کے باعث مخصوص پروازوں پر تبصرہ نہیں کیا جاتا، تاہم جن افراد کو ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے ان کے خلاف وفاقی عدالت کے حتمی احکامات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکا کی تاریخ کی سب سے بڑی غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری مہم پر عمل درآمد کے لیے تمام قانونی ذرائع بروئے کار لا رہی ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے حلقوں نے ایرانی شہریوں کی واپسی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وکیل بیکاہ وولف کے مطابق دو ایرانی شہری، جنہیں اس پرواز میں شامل کیا جانا تھا، قرنطینہ کے باعث عارضی طور پر بچ گئے، تاہم انہیں مستقبل میں ڈی پورٹ کیے جانے کا خدشہ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں افراد ہم جنس پرست ہیں اور ایران واپسی پر انہیں انتہائی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس کے مطابق دسمبر کے آخر سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں کم از کم 5,520 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 77 کم عمر بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 41 ہزار 283 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ان حالات میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران میں جاری کریک ڈاؤن کے پیش نظر ایرانی شہریوں کی ملک بدری کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے






