Trump's new warning to Iran, action will be taken if it does not get the right response
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے باوجود یورینیم ذخائر، پابندیوں اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، جبکہ خلیج میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہیں، تاہم اگر ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس یا ٹول نافذ کرنے کی پالیسی پر قائم رہا تو سفارتی حل مشکل ہو جائے گا۔
روبیو کے مطابق آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی بحری راستہ ہے اور اس پر پابندیاں یا فیس عائد کرنا دنیا کیلئے خطرہ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کو حاصل کرے گا اور تہران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایرانی ذرائع کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح ہدایت دی ہے کہ افزودہ یورینیم ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا، جس سے مذاکرات مزید پیچیدہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایران نے اس ہفتے امریکا کو نئی تجاویز پیش کی ہیں جن میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی نقصانات کا معاوضہ، پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور خطے سے امریکی افواج کے انخلا جیسے مطالبات شامل ہیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز کیلئے ایک نیا مینجمنٹ زون بھی متعارف کرایا ہے، جس کے تحت اس اسٹریٹجک بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی حکام سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔
متحدہ عرب امارات نے ایرانی مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی بحری خودمختاری پر کنٹرول کے دعوے حقیقت سے دور ہیں۔
ادھر روس نے کہا ہے کہ ایران بحران کا حل صرف سفارتکاری سے ممکن ہے اور کسی بھی معاہدے میں ایران کے مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔
عالمی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں کیلئے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ 125 سے 140 جہاز گزرتے تھے، لیکن اب یہ تعداد نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کا ردعمل خطے سے باہر تک پھیل سکتا ہے، جبکہ ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ صحیح جواب نہ ملنے کی صورت میں امریکا دوبارہ کارروائی کر سکتا ہے۔





