Threats of catastrophic consequences over assassination attempt, tensions between the US and Iran are on the rise
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے اعلیٰ عسکری حکام کے درمیان قتل کی دھمکیوں پر شدید نوعیت کے بیانات کے تبادلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز نیشن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران نے ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کی تو اس کا جواب ایسا ہوگا کہ ایران کو “زمین کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔” ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے “نہایت سخت ہدایات” حاصل ہیں۔
اس کے جواب میں ایرانی جنرل ابوالفضل شکارچی نے ایرانی سرکاری میڈیا کو بتایا کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو تہران مکمل طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا:
“ٹرمپ جانتے ہیں کہ اگر ہمارے رہنما کی طرف جارحانہ ہاتھ بڑھایا گیا تو ہم نہ صرف اس ہاتھ کو کاٹ دیں گے بلکہ ان کی پوری دنیا کو آگ میں جھونک دیں گے اور خطے میں انہیں کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ملے گی۔”
ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کو اسی نوعیت کی سخت وارننگ دے چکے ہیں۔ ایک سال قبل وائٹ ہاؤس واپسی کے فوراً بعد انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے ان کے خلاف کوئی اقدام کیا تو اسے “مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔”
دوسری جانب ایران اس وقت شدید اندرونی بحران سے گزر رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک 4 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد 20 ہزار تک جا پہنچی ہے۔





