Tehran's big step in the presence of the US fleet Progress on the purchase of supersonic anti-ship missiles
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) جیو نیوز کی خبر کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران ایران کے چین سے جدید سپرسونک اینٹی شپ کروز میزائل حاصل کرنے کے معاہدے کے قریب پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق چینی ساختہ سی ایم۔302 میزائلوں پر مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، اگرچہ ترسیل کی تاریخ اور مالی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔
تقریباً 290 کلومیٹر رینج رکھنے والے یہ میزائل کم بلندی پر تیز رفتار پرواز کرتے ہوئے بحری دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اگر ایران کو یہ ٹیکنالوجی مل جاتی ہے تو خلیج میں امریکی بحریہ کے لیے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایک سابق اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے اسے گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے میزائلوں کو روکنا آسان نہیں۔
اطلاعات ہیں کہ مذاکرات دو برس سے جاری تھے لیکن گزشتہ سال ایران۔اسرائیل کشیدگی کے بعد ان میں تیزی آئی۔ اسی دوران امریکا نے ایران کے قریب اپنے بحری بیڑے کی موجودگی بڑھا دی ہے اور جوہری پروگرام پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ممکنہ سخت اقدام کا عندیہ دیا ہے، تاہم میزائل معاہدے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تہران کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کا حق حاصل ہے، جبکہ چینی حکام نے باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ سودا طے پا جاتا ہے تو یہ ایران کی عسکری صلاحیت میں اہم اضافہ ہوگا اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مزید اطلاعات کے مطابق ایران زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام، اینٹی بیلسٹک دفاعی ٹیکنالوجی اور دیگر جدید ہتھیاروں کے حصول پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔ مبصرین کے نزدیک چین، روس اور ایران کے درمیان بڑھتا عسکری تعاون خطے میں نئی صف بندیاں پیدا کر سکتا ہے، جبکہ امریکا ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔




