
پناہ کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ،2024 میں 11 ہزار پاکستانیوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ مانگی
نئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 11 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ مانگی — 2022 کے مقابلے میں پانچ گنا اضافہ
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) سما نیوز کے مطابق پاکستانی شہریوں کی سیاسی پناہ کی درخواستوں میں غیر معمولی اضافہ برطانیہ کے امیگریشن اور ویزا نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے، جسے برطانوی میڈیا اور حکام نے تشویشناک قرار دیا ہے۔
نئے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی اب سب سے بڑی تعداد میں پناہ کے متلاشی ہیں جن کی درخواستیں 2022 کے مقابلے میں پانچ گنا بڑھ گئی ہیں اور ان میں سے زیادہ تر افراد پہلے قانونی ویزوں پر برطانیہ داخل ہوئے پھر پناہ کی درخواست میں تبدیل ہوگئے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال 11,234 پاکستانی شہریوں نے سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں جس کے بعد وہ پناہ کے درخواست گزاروں میں سب سے بڑی قومیّت بن گئے۔ مجموعی طور پر 40,739 مہاجرین نے قانونی ویزوں پر آنے کے بعد پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں۔
پاکستان نے تمام بڑے ویزا کیٹیگریز میں پناہ کے ڈیٹا میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا اور وہ واحد ملک بن گیا جو اسٹوڈنٹ، ورک، ویزٹ اور دیگر عارضی ویزوں سے پناہ میں تبدیلی کرنے والوں کی ٹاپ تھری فہرست میں شامل تھا۔
کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے حاصل کردہ ایف او آئی درخواستوں کے مطابق برطانیہ میں ہر 10 میں سے ایک پناہ کی درخواست پاکستانی شہری نے جمع کرائی۔
زیادہ تر پناہ کے متلاشی قانونی طور پر داخل ہوئے
برطانوی میڈیا کے مطابق 9,783 پاکستانی شہری اسٹوڈنٹ، ورکر یا وزٹ ویزوں پر برطانیہ آئے اور پھر پناہ کی درخواست دے دی،یہ 2024 میں پناہ میں تبدیل ہونے والے تمام ویزوں کا 24 فیصد بنتا ہے۔
پاکستان کے ویزا سے پناہ میں تبدیل ہونے کے اعداد و شمار
5,888 اسٹوڈنٹ ویزا
2,578 ورک ویزا
902 وزٹ ویزا
موازنہ کے لیے پاکستان کے اسٹوڈنٹ ویزا سے پناہ میں تبدیل ہونے والے افراد کی تعداد،بھارت (2,295) اور بنگلہ دیش (2,374) دونوں ممالک کے مجموعی اعداد و شمار سے بھی زیادہ ہے۔
گزشتہ سال پاکستانی شہریوں کو مجموعی طور پر 162,000 ویزے جاری کیے گئے۔ جس سے پاکستان برطانیہ سے ویزے حاصل کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہو گیا۔
پاکستانی شہریوں نے سب سے زیادہ کمزوریاں استعمال کیں
برطانوی اخبارات نے لکھا ہے کہ پاکستانی شہری یوکے امیگریشن نظام کی خامیوں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی قوم بن گئے ہیں۔2022 میں پاکستانی شہریوں نے صرف 2,154 پناہ کی درخواستیں دی تھیں جس کا مطلب ہے کہ دو سال میں ان درخواستوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا۔
یہ اضافہ اس خدشے کو بڑھا رہا ہے کہ برطانیہ کا امیگریشن نظام مستقل رہائش کے لیے ایک “پچھلا دروازہ” بن چکا ہے۔
برطانیہ کے امیگریشن نظام پر تنقید میں اضافہ
شیڈو ہوم سیکرٹری کرس فلِپ نے ان اعداد و شمار کو “ٹوٹا ہوا بارڈر اور ویزا سسٹم” قرار دیا۔
انہوں نے کہا دسیاں ہزار لوگ قانونی ویزوں کے ذریعے سیدھے اندر آ رہے ہیں اور بعد میں یہیں رہنے کے لیے پناہ مانگ رہے ہیں۔ یہ مکمل ناکامی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عارضی ویزوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔
محکمہ شماریات (او این ایس) کے سابق سربراہ جیمی جینکنز نے کہا کہ امیگریشن نظام صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ “اندر سے بھی استعمال اور بائی پاس” کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا“162,000 پاکستانیوں کو ویزے دیے گئے، اور یہی براہِ راست ریکارڈ سطح کی پناہ کی درخواستوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
برطانیہ نے مزید سخت قوانین نافذ کردیے
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ کی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے سخت نئے قوانین کا اعلان کیا ہے جن کے تحتاگر کوئی برطانیہ میں غیرقانونی طور پر داخل ہوتا ہے یا ویزہ ختم ہونے کے بعد ٹھہرتا ہے
تو اسے سیٹلمنٹ کے لیے 20 سال انتظار کرنا ہوگا۔ان کی پناہ کی حیثیت ہر 30 ماہ بعد دوبارہ جانچی جائے گی، اور اگر مستقبل میں ان کا ملک محفوظ قرار دیا گیا تو انہیں واپس بھیجا جا سکتا ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق زیادہ تر پاکستانیوں نے سیاسی پناہ مانگی، حالانکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کے شہری ریاستی ظلم و جبر کا شکار نہیں ہیں۔






