Major recovery in China-Canada relations, historic trade agreement after eight years
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق چین اور کینیڈا نے آٹھ سال بعد اعلیٰ سطحی رابطے بحال کرتے ہوئے تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کر لیا۔ بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی اور چینی صدر شی جن پنگ نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ماضی کی کشیدگی سے نکال کر ایک نئی اسٹریٹجک شراکت داری کی سمت لے جانے کا اعلان کیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعظم مارک کارنی نے اس پیش رفت کو “تاریخی اور سنگِ میل معاہدہ” قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک نے ابتدائی مگر اہم تجارتی سمجھوتے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت باہمی تجارتی رکاوٹیں کم اور ٹیرف میں نمایاں کمی کی جائے گی۔
معاہدے کے مطابق چین، جو ماضی میں کینیڈا کے کینولا بیج کی سب سے بڑی منڈی رہا، یکم مارچ تک کینولا مصنوعات پر عائد ٹیرف کو موجودہ 84 فیصد سے کم کر کے تقریباً 15 فیصد تک لانے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ اس فیصلے کو کینیڈا کی زرعی برآمدات کے لیے بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی معاہدے کے تحت چین نے کینیڈین شہریوں کو ویزہ فری داخلے کی سہولت دینے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس سے سیاحت اور عوامی روابط میں اضافے کی توقع ہے۔
دوسری جانب کینیڈا نے چین سے 49 ہزار الیکٹرک گاڑیاں درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن پر ترجیحی بنیادوں پر 6.1 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔ وزیرِاعظم کارنی کے مطابق یہ اقدام حالیہ تجارتی کشیدگی سے قبل کی سطح پر واپسی کے مترادف ہے۔
تاہم کینیڈا کے اس فیصلے پر امریکا نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کم ٹیرف پر بڑی تعداد میں چینی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد کو “مسئلہ خیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کو مستقبل میں اس فیصلے کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے ملاقات کے دوران کہا کہ چین اور کینیڈا کے تعلقات گزشتہ برس اے پیک اجلاس کے موقع پر ایک نئے موڑ میں داخل ہوئے تھے اور حالیہ ملاقات اس بہتری کے عمل کو آگے بڑھانے کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مستحکم اور متوازن تعلقات مشترکہ مفاد میں ہیں۔





