Islamabad blast, close relative of IG Islamabad also martyred, suicide bomber identified Talal Chaudhry's press briefing
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد میں امام بارگاہ پر خودکش دھماکے میں 31 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے، واقعہ دوپہر 1:42 بجے پیش آیا، طلال چوہدری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں 10 سے 12 منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ہسپتالوں میں فوری ایمرجنسی نافذ کی گئی، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی ہدایات پر کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام فوری طور پر موجود تھے اور طلال چوہدری خود بھی پیِمز ہسپتال میں موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ حملہ آور کی شناخت ہو چکی ہے، وہ افغان شہری نہیں، تاہم متعدد بار افغانستان جا چکا تھا اور فرانزک رپورٹ کی بنیاد پر یہ معلومات موصول ہوئی ہیں۔ طلال چوہدری نے کہا کہ یہ دہشت گردی ایک ہی پیٹرن پر ہے، ایک گروہ مذہب کے نام پر دہشت گردی کرتا ہے جبکہ بی ایل اے اور دیگر گروہ صوبائیت کے نام پر حملے کرتے ہیں، ہارڈ ٹارگٹس کی بجائے سافٹ ٹارگٹس یعنی بازار، اسکول، مساجد، امام بارگاہیں، بینک اور عوامی ادارے نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج کے حملے میں آئی جی اسلام آباد کے فرسٹ کزن بھی شہید ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گرد اللہ کی راہ میں نہیں بلکہ ڈالروں کے لیے کام کر رہے ہیں، بھارت کی سرپرستی میں فنڈنگ تین گنا بڑھائی گئی ہے، چاہے یہ بی ایل اے ہو یا ٹی ٹی پی، انہیں ہر حملے کے بدلے ڈالر دیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ناکامی نہیں بلکہ ایک بیک فلیش ہے کیونکہ پاکستان دنیا کو دہشت گردی سے بچانے والا فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے، دہشت گرد صرف پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، دیوار پاکستان ہے اور اگر یہ کمزور ہوئی تو آگ سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی۔





