Iran's modern defense system is a major obstacle to US attacks
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے بیانات کے بعد دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام وینزویلا کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور جدید ہے، جسے ناکارہ بنانا امریکا کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق ایران کے فضائی دفاعی نیٹ ورک میں چین کا جدید ترین برآمدی نظام ایچ کیو-9 بی اور روس کا ایس-400 سسٹم شامل کیا جا چکا ہے، جبکہ ایران مقامی سطح پر تیار کردہ دفاعی نظاموں پر بھی انحصار بڑھا رہا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران میں حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر چکے ہیں اور امریکی صدر نے ایرانی حکام کو سخت نتائج کی دھمکی دی ہے۔
دفاعی تجزیہ کار وینزویلا کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری وہاں کے کمزور فضائی دفاعی نظام کے باعث ممکن ہوئی، جہاں روسی ساختہ ایس-300 وی ایم اور بی یو کے -ایم 2 ای سسٹمز امریکی فضائی حملوں اور الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے جلد غیر مؤثر بنا دیے گئے تھے۔ وینزویلا کے ریڈار سسٹمز برسوں سے ناقص دیکھ بھال اور کرپشن کے باعث عملی طور پر ناکارہ تھے۔
اس کے برعکس ایران نے گزشتہ ایک سال میں اپنے فضائی دفاعی ڈھانچے کو نمایاں طور پر اپ گریڈ کیا ہے۔ ستمبر میں ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن ابوالفضل ظہرواند نے بتایا تھا کہ ایران کو جولائی 2025ء میں چین کے ایچ کیو-9 بی اور روس کے ایس-400 فضائی دفاعی سسٹمز موصول ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق روسی مگ 29 جنگی طیارے ایران پہنچ چکے ہیں جبکہ سخوئی ایس یو 35 طیاروں کی فراہمی بھی متوقع ہے۔
چینی ایچ کیو-9 بی کی حدِ مار تقریباً 300 کلومیٹر اور رفتار ماک 4 سے زائد بتائی جاتی ہے، جبکہ روسی سسٹم کی آپریشنل رینج 400 کلومیٹر تک ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے 2025ء کے وسط میں ایس 400 کا پہلا عملی تجربہ بھی کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران نے مقامی طور پر تیار کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والا فضائی دفاعی نظام باوار -373 بھی تعینات کر رکھا ہے، جس کی حدِ مار 300 کلومیٹر سے تجاوز کر چکی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق روسی، چینی اور مقامی فضائی دفاعی نظاموں پر مشتمل ایران کا کثیرسطحی نیٹ ورک امریکا کے لیے کسی بھی ممکنہ فضائی کارروائی کو وینزویلا کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور مہنگا بنا سکتا ہے۔






