Skip to content

اردو انٹرنیشنل

ڈیجیٹل دنیا میں اردو کی نمائندگی، ایشیا اور جنوبی ایشیا سے آپ تک

Primary Menu
  • صفحۂ اول
  • سیاست
  • پاکستان
  • چین
  • ایشیا
  • کالم کار
  • جنتا کی آواز
  • کاروبار
  • کھیل
  • محاذ
  • بین الاقوامی
  • چین

وزیرِ خارجہ کا دورۂ بیجنگ منسوخ:جرمنی اور چین کے تعلقات مزید تناؤ کا شکار

1 minute read
Foreign Minister's visit to Beijing canceled Germany-China relations further strained

وزیرِ خارجہ کا دورۂ بیجنگ منسوخ: جرمنی اور چین کے تعلقات مزید تناؤ کا شکار

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) گلوبل ٹائمز کے مطابق جرمن قانون ساز ادِس احمدووِچ  نے ہفتے کے روز چین کے بارے میں جرمنی کی پالیسی میں تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ براہِ راست مکالمہ اورایک فعال، اسٹریٹجک خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جو مکالمے، وضاحت اور طویل المدتی مفادات پر مبنی ہو۔یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب جرمنی کے وزیرِ خارجہ یُوہان واڈیفُل نے اپنا بیجنگ کا طے شدہ دورہ مؤخر کر دیا۔

احمدووِچ جو سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی (SPD) کے خارجہ پالیسی کے ترجمان ہیں نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا چین کے دورے کی اچانک منسوخی جرمنی اور چین کے کشیدہ تعلقات میں بہتری کی امید کے لیے اچھا اشارہ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہمیں جرمنی کی چین پالیسی پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کے حالات میں پہلے سے زیادہ ایک فعال اور حکمتِ عملی پر مبنی خارجہ پالیسی درکار ہے جو مکالمے، وضاحت اور طویل المدتی مفادات پر توجہ دے۔ چین کے ساتھ براہِ راست مکالمہ خصوصاً عالمی تناؤ کے اس دور میں نہایت اہم ہے۔

جرمن وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی کہ واڈیفُل کا دورہ  جو گزشتہ ہفتے کے لیے طے تھا — ملتوی کر دیا گیا ہے۔یہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز (Friedrich Merz) کی قیادت میں قائم نئی قدامت پسند حکومت کے کسی وزیر کا چین کا پہلا دورہ ہوتا، جیسا کہ ڈوئچے ویلے (Deutsche Welle) نے جمعے کو رپورٹ کیا۔

ماہرین کے مطابق جرمنی کو واقعی اپنی چین حکمتِ عملی میں رد و بدل اور چین کے ساتھ تعاون کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معیشت کو سہارا ملے اور بحالی کی رفتار بڑھے۔ تاہم، اس کے ساتھ برلن کو حقیقی اقدامات اور سنجیدہ نیت کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا تاکہ تعلقات میں بہتری ممکن ہو۔

چینی اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف یورپین اسٹڈیز کے محقق ژاؤ چن (Zhao Chen) نے گلوبل ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ احمدووِچ کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جرمنی میں چین پالیسی پر دوبارہ غور کے لیے ایک اندرونی مطالبہ جنم لے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی کے سیاسی حلقے گہرے طور پر منقسم ہیں،کچھ چین کو ایک حریف کے طور پر دیکھتے ہیں، جب کہ دوسروں کا ماننا ہے کہ اگر چین کے ساتھ قریبی تعاون نہ کیا گیا تو جرمنی کی صنعتیں اور معیشت مزید دباؤ کا شکار ہوں گی۔

ژاؤ نے مزید کہا ہے کہ چونکہ جرمنی ایک برآمدی معیشت ہے، اس کے لیے چینی کمپنیوں اور منڈی سے تعاون ختم کرنا ممکن نہیں۔ احمدووِچ کا بیان ایک تعمیری سوچ کی نمائندگی کرتا ہے، مگر برلن کو ابھی حقیقی اقدامات اور خلوصِ نیت کا ثبوت دینا ہوگا۔

وزیرِ خارجہ واڈیفُل کے دورے کی منسوخی پر جرمن میڈیا نے بھی تنقید کی۔فوکس میگزین (Focus) نے لکھا کہ واڈیفُل اپنے پیش رو بیئربوک (Baerbock) کی طرح چین پر اخلاقی تنقید کرتے ہیں،حالانکہ اس سے بہتر حکمتِ عملی یہ ہے کہ چین سے سیکھا جائے، نہ کہ اسے سزا دی جائے۔

تبصرے میں کہا گیا کہ یورپی یونین جو امریکہ کی پیروی کر رہی ہے چین پر زیادہ ٹیرف عائد کر رہی ہے،لیکن یہ پالیسی صرف چین نہیں بلکہ مغربی مفادات کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ جرمنی اور چین دونوں برآمدی ممالک ہیں،اس لیے اس طرح کی تجارتی پالیسی دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

اسی طرح جرمن میڈیا ادارے “دی پاینیر (The Pioneer) نے بھی واڈیفُل کے فیصلے پر تنقید کی اور ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا

“Abgesagte China-Reise: Der weltfremde Außenminister”

(یعنی: “چین کا منسوخ شدہ دورہ — حقیقت سے کٹا ہوا وزیرِ خارجہ”)

بیجنگ فورن اسٹڈیز یونیورسٹی کے اکیڈمی آف ریجنل اینڈ گلوبل گورننس کے پروفیسر چوئی ہونگجیان (Cui Hongjian) نے گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ “جرمن حکومت ابھی تک چین-جرمنی تعلقات کی منفرد اہمیت کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکی۔انہوں نے کہا کہ احمدووِچ کا بیان ایس پی ڈی (SPD) کے اندر بڑھتی ہوئی عدم اطمینان کو ظاہر کرتا ہے جو موجودہ حکومت کے چین مخالف رویّے کے خلاف ہے۔

چوئی کے مطابق واڈیفُل کے دورے کی منسوخی جرمنی کے لیے ایک انتباہ ہے کہ اسے اپنی خارجہ پالیسی میں چین-جرمنی تعلقات کی اہمیت کو تسلیم کرنا ہوگا، بجائے اس کے کہ وہ پرانے تصادم والے بیانیے سے چمٹا رہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گُو جی کون (Guo Jiakun) نے جمعے کو کہا ہے کہ اس پُرآشوب اور غیر یقینی عالمی ماحول میں چین اور جرمنی، جو دو بڑی طاقتیں اور معیشتیں ہیں کو چاہیے کہ وہ ایک نئے طرز کے بڑے ممالک کے تعلقات کی مثال قائم کریں، باہمی احترام، برابری اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دیں، اور چین-جرمنی تعلقات کے استحکام کے ذریعے عالمی امن اور ترقی میں زیادہ کردار ادا کریں۔

انہوں نے مزید کہا دونوں ممالک کھلے اور صاف مکالمے کے ذریعے بہتر سمجھ اور باہمی اعتماد کو فروغ دے سکتے ہیں۔ برلن کو چاہیے کہ وہ ایک غیر جانب دار، منصفانہ اور مثبت رویہ اپنائے، چین کے بارے میں ایک درست اور حقیقت پسندانہ نقطہ نظر پیدا کرے، اور بیجنگ کے ساتھ مل کر دوطرفہ تعلقات کو درست سمت میں آگے بڑھائے۔

Tags: برلن بیجنگ تعلقات تناؤ کا شکار جرمنی چین واڈیفُل وزیر خارجہ

Post navigation

Previous: چین اور امریکہ سے مزید خوشخبری سننے کو دنیا منتظر ہے،گلوبل ٹائمز کا ایڈیٹوریل
Next: پیٹ کمنز انجری کے باعث پہلے ایشیز ٹیسٹ سے باہر، اسٹیو اسمتھ کپتان مقرر

Washington meeting: IMF praises, prospects of restoring global confidence in Pakistan's economy bright
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان

واشنگٹن اجلاس:آئی ایم ایف کی تعریف، پاکستان کی معیشت پر عالمی اعتماد بحال ہونے کے امکانات روشن

Important meeting with Saudi leadership, Prime Minister thanks for economic cooperation—peace and defense partnership further strengthened
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • پاکستان

سعودی قیادت سے اہم ملاقات، وزیراعظم کا معاشی تعاون پر شکریہ—امن و دفاعی شراکت مزید مضبوط

Asim Munir holds important meetings in Tehran, Pakistan mobilizes to reduce Iran-US tensions
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

تہران میں عاصم منیر کی اہم ملاقاتیں ، ایران-امریکا کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان متحرک

یہ بھی پڑہیے

Washington meeting: IMF praises, prospects of restoring global confidence in Pakistan's economy bright
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان

واشنگٹن اجلاس:آئی ایم ایف کی تعریف، پاکستان کی معیشت پر عالمی اعتماد بحال ہونے کے امکانات روشن

Important meeting with Saudi leadership, Prime Minister thanks for economic cooperation—peace and defense partnership further strengthened
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • پاکستان

سعودی قیادت سے اہم ملاقات، وزیراعظم کا معاشی تعاون پر شکریہ—امن و دفاعی شراکت مزید مضبوط

Asim Munir holds important meetings in Tehran, Pakistan mobilizes to reduce Iran-US tensions
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

تہران میں عاصم منیر کی اہم ملاقاتیں ، ایران-امریکا کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان متحرک

Pakistan team's camp in Karachi, big test begins before Bangladesh series-PCB
  • کھیل

پاکستان ٹیم کا کراچی میں کیمپ، بنگلا دیش سیریز سے پہلے بڑا امتحان شروع

Calendar

April 2026
MTWTFSS
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930 
« Mar    

Top News

Washington meeting: IMF praises, prospects of restoring global confidence in Pakistan's economy bright
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان

واشنگٹن اجلاس:آئی ایم ایف کی تعریف، پاکستان کی معیشت پر عالمی اعتماد بحال ہونے کے امکانات روشن

Important meeting with Saudi leadership, Prime Minister thanks for economic cooperation—peace and defense partnership further strengthened
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • پاکستان

سعودی قیادت سے اہم ملاقات، وزیراعظم کا معاشی تعاون پر شکریہ—امن و دفاعی شراکت مزید مضبوط

Asim Munir holds important meetings in Tehran, Pakistan mobilizes to reduce Iran-US tensions
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

تہران میں عاصم منیر کی اہم ملاقاتیں ، ایران-امریکا کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان متحرک

Trump claims Iran war in final stages, important talks expected in Pakistan
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

ٹرمپ کا دعویٰ: ایران جنگ آخری مرحلے میں، پاکستان میں اہم مذاکرات متوقع

UAE Debt Repayment Government Prepares Emergency Financial Plan
  • Top News
  • پاکستان

یو اے ای قرض واپسی: حکومت کا ہنگامی مالی پلان تیار

Social Streams

  • Facebook
  • Instagram
  • Twitter
  • Youtube

Categories

Afghanistan Editor's Pick South Asia Ticker Top News آج کے کالمز الیکشن 2024 امریکہ انٹرنیمنٹ انڈیا بین الاقوامی دلچسپ و عجیب سائنس اور ٹیکنالوجی مشرق وسطیٰ ّExclusive پاکستان چین کاروبار کھیل
Copyright © All rights reserved. | MoreNews by AF themes.