نیویارک اور ورجینیا میں انتخابات،مسلم اور جنوبی ایشیائی ووٹرز فیصلہ کن قوت بن گئے

نیویارک اور ورجینیا میں انتخابات،مسلم اور جنوبی ایشیائی ووٹرز فیصلہ کن قوت بن گئے
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) مامدانی ایک صدی سے زائد عرصے میں نیویارک کے کم عمر ترین میئر بننے کے قریب، جبکہ غزالہ ہاشمی ورجینیا کی لیفٹیننٹ گورنر کی دوڑ میں سب سے آگے
نیویارک ایک تاریخی میئرل الیکشن کے لیے تیار ہے، جو شہر کو اس کا پہلا مسلم اور جنوبی ایشیائی نژاد میئر دے سکتا ہے، جبکہ ورجینیا میں ایک اور سنگِ میل عبور ہونے والا ہے۔
غزالہ ہاشمی، جو ایک ڈیموکریٹ، مسلم اور جنوبی ایشیائی نژاد امریکی ہیں، لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے کی دوڑ میں سبقت حاصل کیے ہوئے ہیں، جبکہ ذوہران مامدانی، جو ڈیموکریٹ پارٹی کے ہی امیدوار ہیں، نیویارک سٹی کے میئر کے انتخاب میں واضح برتری کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں۔
انتخابات سے محض چوبیس گھنٹے قبل، کمیونٹی رہنما پاکستانی نژاد امریکیوں اور دیگر مسلم ووٹرز پر زور دے رہے ہیں کہ وہ منگل کے روز بڑی تعداد میں ووٹ ڈالیں۔
نیویارک سٹی میں اس سال قبل از وقت ووٹنگ کی شرح غیر معمولی رہی ہے۔ سٹی بورڈ آف الیکشنز کے مطابق، ہفتہ کی شام تک 584,105ووٹ ڈالے جا چکے تھے، جو 2021 کے میئرل الیکشن کے اسی وقت کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہیں (اس وقت صرف 109,000 ووٹ ڈالے گئے تھے)۔
پچاس سال سے کم عمر ووٹرز ان ووٹوں میں تقریباً 69 فیصد حصہ رکھتے ہیں، اور ایمرسن کالج کے پولز کے مطابق اس گروپ میں مامدانی کے لیے زبردست حمایت موجود ہے۔ بزرگ ووٹرز اب بھی تقسیم ہیں، لیکن نوجوانوں کی توانائی اور شرکت الیکشن ڈے پر فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
34 سالہ مامدانی نہ صرف ایک صدی میں سب سے کم عمر میئر بننے جا رہے ہیں، بلکہ نیویارک کے پہلے مسلم اور جنوبی ایشیائی میئر بھی بن سکتے ہیں۔
ان کی مہم — جس کے نکات میں کرایوں میں اضافہ منجمد کرنا، بسوں کو مفت کرنا، اور عوامی ملکیت میں گروسری اسٹورز قائم کرنا شامل ہیں — نے نوجوان اور مزدور طبقے کے محلوں میں نئی جان ڈال دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا ابھار قومی سطح پر توجہ کا مرکز بن چکا ہے، اور خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس پر تبصرے کیے ہیں۔
ٹرمپ نے ایک موقع پر کہا کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ یہاں غیرقانونی طور پر ہیں۔انہوں نے مامدانی کو “کمیونسٹ” قرار دیا اور کہا، “تو پھر ہمیں اسے گرفتار کرنا پڑے گا۔ایک اور ریلی میں ٹرمپ نے کہا یہ شخص نیویارک کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ … میں نیویارک سے محبت کرتا ہوں، اور ہم اسے ایسا کرنے نہیں دیں گے۔
سی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے پھر وہی الفاظ دہرائے: “مامدانی ایک کمیونسٹ ہے، سوشلسٹ نہیں۔جب ان سے مامدانی کے ساتھ موازنہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: “میرے خیال میں میں اس سے کہیں بہتر نظر آنے والا شخص ہوں۔”
مامدانی کی ٹیم نے ٹرمپ کے بیانات کو ایک “نئی نسل کے ترقی پسند سیاست دانوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش” قرار دیا۔مامدانی نے اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا جیسا کہ نیلسن منڈیلا نے کہا تھا: ‘یہ ہمیشہ ناممکن لگتا ہے جب تک یہ ہو نہ جائے۔’ میرے دوستو، ہم نے یہ کر دکھایا ہے۔ میں نیویارک سٹی کے میئر کے لیے آپ کا ڈیموکریٹک امیدوار ہوں۔
تجزیہ کار مامدانی کے تیز رفتار سیاسی سفرایک ریاستی اسمبلی رکن سے ملک کے طاقتور ترین میئرل امیدوار بننے تک کو امریکہ میں ترقی پسند سیاست کے لیے ایک ممکنہ موڑ قرار دے رہے ہیں۔ ان کی مہم نے نہ صرف نیویارک بلکہ ملک بھر میں نوجوان ووٹروں اور سماجی کارکنوں کو متحرک کیا ہے۔
ادھر ورجینیا میں بھی قبل از وقت ووٹنگ میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ہفتہ تک 16 لاکھ سے زائد ووٹ ڈالے جا چکے تھے، جو متوقع کل ووٹوں کا تقریباً 40 فیصد ہیں — 2021 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ، جب اسی موقع پر صرف 11 لاکھ ووٹ پڑے تھے.چالیس سال سے کم عمر ووٹرز ان ووٹوں کا تقریباً 35 فیصد حصہ ہیں اور وہ زیادہ تر ڈیموکریٹ امیدواروں، خصوصاً غزالہ ہاشمی اور ایبیگیل اسپین برگر کی حمایت کر رہے ہیں۔
غزالہ ہاشمی، جو ورجینیا کی پہلی مسلم خاتون سینیٹر بن چکی ہیں، نے اپنی انتخابی مہم میں مذہب کو مرکزی حیثیت نہیں دی۔ ان کی توجہ اپنی بطور استاد اور پالیسی ساز کارکردگی پر ہے۔ ان کی مہم مساوات، تعلیمی مواقع، اور محنت کش طبقے کے لیے بہتر امکانات پر زور دیتی ہے۔
انہوں نے کہا یہ مہم ہر ورجینیائی کے لیے مواقع اور مساوات یقینی بنانے کے بارے میں ہے۔ ہم ایک ایسا مستقبل بنانا چاہتے ہیں جہاں ہر شخص، اس کے پس منظر سے قطع نظر، منصفانہ موقع حاصل کرے۔
دوسری جانب، ریپبلکن پارٹی کے پاکستانی نژاد حامیوں کے لیے اسپنگ فیلڈ میں منعقد ایک ناشتے کے دوران ورجینیا کے سیکریٹری آف کامرس خوان پابلو سیگورا نے مسلم اور جنوبی ایشیائی ووٹروں پر زور دیا کہ وہ قدامت پسند اقدار کی بنیاد پر ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دیں۔
انہوں نے کہا باہر نکلیں اور ووٹ ڈالیں۔ اگر آپ سیاسی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے تو آپ گلہ بھی نہیں کر سکتے۔
منصور قریشی، چیئرمین، گورنر کے ایشیائی مشاورتی بورڈ کی شہری کمیٹی نے بتایا کہ ورجینیا میں 4.5 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز جنوبی ایشیائی اور مسلم کمیونٹیز سے تعلق رکھتے ہیں، اور وہ انتخابات کے نتائج کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ پچھلے قریبی انتخابات — مثلاً گورنر گلین ینگکن کی 60,000 ووٹوں اور لیفٹیننٹ گورنر ونسوم سیئرز کی 50,000 ووٹوں کی جیت — معمولی فرق سے طے ہوئے تھے۔
نیویارک اور ورجینیا کے انتخابات ایک وسیع تر تبدیلی کی علامت ہیں.مسلم اور جنوبی ایشیائی امریکی اب نہ صرف مضبوط امیدواروں بلکہ فیصلہ کن ووٹنگ بلاکس کے طور پر بھی ابھر رہے ہیں۔ نیویارک میں ان کی حمایت ترقی پسند سیاست کو توانائی دے رہی ہے، جبکہ ورجینیا میں ان کی شرکت ریاستی سیاسی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
ریپبلکن لنچ میں شرکاء کا کہنا تھا کہ اگر مامدانی نیویارک میں جیت گئے تو اس کے اثرات قومی ڈیموکریٹک پارٹی تک جائیں گے — جس سے ترقی پسند نظریات کو تقویت ملے گی اور اعتدال پسند ڈھانچے کو چیلنج کیا جائے گا۔ اس صورت میں ریپبلکن ووٹروں میں بھی نئی حرارت پیدا ہو گی۔
دوسری طرف، اگر غزالہ ہاشمی کامیاب رہیں اور مسلم و جنوبی ایشیائی ووٹرز بھرپور تعداد میں پولنگ اسٹیشن پہنچے، تو یہ اس حقیقت کو مزید مضبوط کرے گا کہ امریکی سیاست میں ان کمیونٹیز کی اتحادی حیثیت فیصلہ کن بن چکی ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق، امریکی سیاست کا مستقبل شاید دو متوازی تبدیلیوں پر منحصر ہے:
ایک طرف ایک نئی نسل کے امیدواروں کا ابھار، اور دوسری طرف اُن کمیونٹیز کی بیداری جو نائن الیون کے بعد طویل عرصے تک نظرانداز رہیں۔






