چین نے تیان گونگ اسپیس اسٹیشن کے لیے پہلی ایمرجنسی مشن روانہ کر دی

چین نے تیان گونگ اسپیس اسٹیشن کے لیے پہلی ایمرجنسی مشن روانہ کر دی
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) چین کا پہلا ہنگامی خلائی مشن منگل کو روانگی کے بعد مدار میں داخل ہو گیا، کیونکہ ملک اس خلائی اسٹیشن میں سیکیورٹی خطرات کو دور کرنا چاہتا ہے جہاں اس ماہ کے اوائل میں ایک خلائی جہاز کو نقصان پہنچا تھا۔
چین کی مینڈ اسپیس ایجنسی (سی ایم ایس اے) کے مطابق غیر انسانی شین ژو-22 خلائی جہاز دوپہر 12:11 بجے (0411 جی ایم ٹی) شمال مغربی چین کے جیوچوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانگ مارچ-2 ایف راکٹ کے ذریعے فضا میں بلند ہوا۔
چینی سرکاری براڈکاسٹر سی سی ٹی وی کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں راکٹ کو خلا کی جانب بڑھتے ہوئے دکھایا گیا جبکہ زمین پس منظر میں نظر آرہی تھی جب خلائی جہاز مدار میں داخل ہوا۔
یہ خلائی جہاز چین کے مستقل انسانی خلائی اسٹیشن تیان گونگ کی جانب سفر کرے گا، جہاں اس وقت تین خلا نورد موجود ہیں لیکن کسی ہنگامی صورت میں انہیں زمین پر واپس لانے کے لیے کوئی قابلِ پرواز جہاز موجود نہیں۔
سی ایم ایس اے نے اپنی سرکاری وی چیٹ پوسٹ میں بتایا کہ خلائی جہاز کامیابی سے راکٹ سے جدا ہو گیا اور اپنے منصوبہ بند مدار میں داخل ہو گیا، لانچ مشن مکمل طور پر کامیاب رہا۔
5 نومبر کو شین ژو-20 کو تین چینی خلا نوردوں کو زمین پر واپس لانا تھا لیکن واپسی کیپسول کی کھڑکی خلا کے ملبے کے ٹکراؤ کے باعث ٹوٹ جانے کے بعد اسے ناقابلِ استعمال قرار دیا گیا۔
اسپیئر پارٹس اور راشن
اس صورتحال نے چین کی خلائی اتھارٹیز کو 14 نومبر کو واحد قابلِ پرواز خلائی جہاز شین ژو-21 روانہ کرنے پر مجبور کر دیا، جو اکتوبر کے آخر میں ہی اسٹیشن پر ایک نئی ٹیم لے کر پہنچا تھا۔
شین ژو-21 کے قبل از وقت یعنی چھ ماہ پہلے ہی جانے کے باعث، تیان گونگ کے تینوں خلا نورد خلائی جہاز کے بغیر رہ گئے تھے—جو ایک بڑا حفاظتی خطرہ تھا۔ شین ژو-22 کی آمد اس خطرے کو دور کرے گی۔
سی ایم ایس اے کے اہلکار ہی یوان جُن نے سی سی ٹی وی کو بتایا کہ یہ چین کا پہلا ہنگامی لانچ ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ انسانی خلائی سفر میں یہ آخری ہو۔
شین ژو-22 خلائی جہاز تیان گونگ کے لیے اسپیئر پارٹس، شین ژو-20 کی ٹوٹی ہوئی کھڑکی کی مرمت کا سامان جو اسپیس اسٹیشن سے جڑا ہوا ہے اور تازہ پھل و سبزیاں لے کر روانہ ہوا۔
اسٹیشن پہنچنے کے بعد یہ خلائی جہاز اپریل 2026 تک وہاں منسلک رہے گا اور اسی کے ذریعے شین ژو-21 کا عملہ زمین پر واپس لایا جائے گا۔
تیز رفتار تعیناتی
2021 سے اب تک چین کے شین ژو مشنز تین رکنی ٹیموں کو چھ ماہ کے لیے تیان گونگ بھیج رہے ہیں۔ چینی حفاظتی پروٹوکول کے مطابق ہمیشہ ایک بیک اپ راکٹ اور شین ژو خلائی جہاز تیار حالت میں رکھے جاتے ہیں۔
چونکہ شین ژو-22 اور اس کا کیریئر راکٹ پہلے ہی جیوچوان لانچ سینٹر میں موجود تھے، لہٰذا ایمرجنسی لانچ پروسیجر پر عمل کرنے میں صرف 16 دن لگے، سی ایم ایس اے کے ہی کے مطابق۔
چین کا تیز اور منظم ردعمل امریکہ کے برخلاف ہے، جہاں دو ناسا خلا نوردوں کو اپنے جہاز کے پروپلشن سسٹم کی خرابی کے باعث نو مہینےتک انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن پر پھنسے رہنا پڑا۔
دونوں ممالک ایک دوسرے کے عملی طریقہ کار اور خلائی ٹیکنالوجیز کا باریک بینی سے مطالعہ کر رہے ہیں، کیونکہ دونوں کی کوشش ہے کہ 2030 سے پہلے چاند پر انسانی مشن اتارا جائے۔






