آسٹریا کی خفیہ ایجنسی نے ویانا میں حماس سے منسلک اسلحہ ذخیرہ گاہ برآمد کر لی

آسٹریا کی خفیہ ایجنسی نے ویانا میں حماس سے منسلک اسلحہ ذخیرہ گاہ برآمد کر لی
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹائمز یونین کی ایک خبر کے مطابق آسٹریا کی خفیہ ایجنسی نے ویانا میں ایک اسلحہ ذخیرہ گاہ (ویپنز کیش) دریافت کی ہے جو فلسطینی عسکری تنظیم حماس سے منسلک بتائی جا رہی ہے۔ حکومت کے مطابق یہ اسلحہ ممکنہ طور پر “یورپ میں دہشت گرد حملوں” کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔
تحقیقات کے موجودہ مرحلے کے مطابق ان حملوں کا نشانہ غالباً یورپ میں اسرائیلی یا یہودی ادارے ہو سکتے تھے۔
یہ اسلحہ اور مشتبہ شخص آسٹریا کے ریاستی سلامتی و انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ (DSN) کی قیادت میں ایک بین الاقوامی تحقیقاتی کارروائی کا حصہ تھے، جو “ایک عالمی دہشت گرد تنظیم” کے خلاف چلائی جا رہی ہے جس کے “حماس سے تعلقات” بتائے جا رہے ہیں۔
وزارت نے کہا کہ تحقیقات کے دوران شبہ پیدا ہوا کہ ایک گروہ نے “یورپ میں ممکنہ دہشت گرد حملوں” کے لیے اسلحہ آسٹریا میں اسمگل کیا ہے۔
جمعرات کے روز جرمنی کے وفاقی پراسیکیوٹر کے دفتر نے مشتبہ شخص کی شناخت محمد اے کے طور پر کی (جرمن پرائیویسی قوانین کے مطابق مکمل نام ظاہر نہیں کیا گیا)۔
بیان میں بتایا گیا کہ محمد اے کی دو ملاقاتیں عبدال اے جی سے ہوئیں جو پچھلے مہینے جرمنی میں اسرائیلی یا یہودی اداروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان ملاقاتوں کے دوران محمد اے نے عبدال اے جی سے پانچ پستولیں اور گولیاں حاصل کیں، پھر انہیں آسٹریا لے جا کر ویانا میں ایک جگہ ذخیرہ کر دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدامات “جرمنی میں اسرائیلی یا یہودی اداروں پر دہشت گرد حملوں کی تیاری” کے لیے کیے گئے تھے۔
پراسیکیوٹر کے مطابق “برطانیہ سے حوالگی” کے بعد مشتبہ شخص کو جرمنی کی وفاقی عدالت میں ایک تفتیشی جج کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
گزشتہ ماہ حماس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ جرمنی میں گرفتار افراد کا ان کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں، اور یہ الزامات “بے بنیاد” ہیں۔
اگرچہ حماس نے ماضی میں اسرائیلی شہریوں پر سینکڑوں حملے کیے ہیں، لیکن وہ شاذونادر ہی اسرائیل یا فلسطینی علاقوں سے باہر کارروائیاں کرتی ہے۔
اسلحہ کا ذخیرہ جو مبینہ طور پر حماس کے غیر ملکی نیٹ ورک سے منسلک سمجھا جا رہا ہے۔ ویانا میں ایک کرائے کے اسٹوریج روم میں ایک سوٹ کیس کے اندر ملا، جس میں پانچ پستولیں اور دس میگزین شامل تھے۔
آسٹریا کے وزیر داخلہ گیرہارڈ کارنر نے کہا،یہ کیس ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ ہماری ریاستی سلامتی و انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ کا بین الاقوامی نیٹ ورک نہایت مؤثر ہے اور وہ ہر قسم کی انتہاپسندی کے خلاف مستقل کارروائی کرتا ہے۔ ہمارا مشن بالکل واضح ہے: دہشت گردوں کے لیے صفر برداشت۔”
برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) نے جمعرات کو تصدیق کی کہ 39 سالہ مشتبہ شخص کو پیر کے روز وسطی لندن سے خصوصی ٹیم نے گرفتار کیا۔ وہ اس وقت حراست میں ہے اور پیر کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں دوبارہ پیش کیا جائے گا۔






