Attack on Iran's oil supply line, a strategic target for the US military or a new war swamp
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز خبر کے مطابق امریکہ میں ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر ممکنہ زمینی کارروائی سے متعلق سنجیدہ غور جاری ہے، تاہم دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام جنگ کو مختصر کرنے کے بجائے مزید طول دے سکتا ہے اور امریکی افواج کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔
امریکی صدر کی انتظامیہ اس امکان کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ایران کے اس اسٹریٹجک جزیرے پر زمینی قبضہ کیا جائے یا نہیں۔ امریکی حکام کے مطابق بحریہ کے دستے اور فضائی فوجی یونٹس خطے میں تعیناتی کیلئے تیار رکھے جا رہے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جا سکے۔
امریکی افواج پہلے ہی مارچ کے وسط میں خارگ جزیرے پر حملے کر چکی ہیں، جن کے بارے میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ تمام فوجی اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اب اگلے مرحلے کے طور پر زمینی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکی فوج جزیرے پر نسبتاً جلد قبضہ کر سکتی ہے، لیکن اس کے بعد صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل، ڈرون حملے اور بارودی سرنگیں امریکی فوج کیلئے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں، خاص طور پر جدید فرسٹ پرسن ویو ڈرونز جو حالیہ جنگوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے سمندری راستوں میں بارودی سرنگیں بچھانے کا خدشہ بھی موجود ہے، جس سے نہ صرف فوجی آپریشن بلکہ عالمی جہاز رانی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ پہلے ہی آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی سپلائی دباؤ کا شکار ہے۔
سابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جوزف ووٹل کے مطابق خارگ جزیرے پر کنٹرول کیلئے 800 سے 1000 فوجیوں کی ضرورت ہوگی، تاہم انہیں مسلسل لاجسٹک اور سکیورٹی سپورٹ درکار ہوگی، جو خود ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام عسکری لحاظ سے کوئی فیصلہ کن برتری فراہم نہیں کرے گا۔





