Iran-US conflict intensifies, Trump rejects new peace proposal
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع میں پیش رفت ایک بار پھر رک گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی تازہ امن تجویز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت داخلی سطح پر قیادت کے معاملات طے کرنے میں مصروف ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران کی پیشکش میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی کو ترجیح دی گئی تھی، جبکہ جوہری پروگرام پر بات چیت کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی۔ تاہم واشنگٹن چاہتا ہے کہ جوہری معاملہ مذاکرات کے آغاز ہی سے شامل ہو۔
صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔ ادھر ایران کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ سرکاری سطح پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو سخت محدود کر رکھا ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ جہاں پہلے روزانہ 100 سے زائد جہاز گزرتے تھے، اب یہ تعداد انتہائی کم ہو چکی ہے۔
ادھر امریکا نے بھی ایران کی بندرگاہوں اور بحری تجارت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جبکہ اطلاعات ہیں کہ مزید طویل ناکہ بندی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں کم از کم 6 ایرانی تیل بردار جہازوں کو واپس لوٹنا پڑا، جو اس بحران کے عالمی تجارت پر اثرات کو واضح کرتا ہے۔
امریکا نے ایران کے مبینہ شیڈو بینکنگ نیٹ ورک سے وابستہ 35 اداروں اور افراد پر نئی پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے ایران کو ادائیگی کرنے والی کمپنیوں کو بھی ممکنہ پابندیوں سے خبردار کیا گیا ہے۔
سفارتی سطح پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی مختلف ممالک کے دورے کر کے حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم مذاکراتی عمل تاحال واضح پیش رفت سے محروم ہے۔




