Iran's harsh action in Hormuz delays US attacks - questions remain about ceasefire
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی ہے، جہاں ایران نے دو غیر ملکی جہاز تحویل میں لے کر اپنی گرفت مضبوط کر لی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملے مؤخر کرنے کے اعلان کے باوجود جنگ بندی کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق لائبیریا کے جھنڈے بردار ایپامینونڈاس اور پاناما کے ایم ایس سی فرانسسکا کو ضابطہ خلاف ورزی اور نیویگیشن سسٹم میں رد و بدل کے الزام میں قبضے میں لیا گیا۔ ایک تیسرے جہاز پر فائرنگ بھی کی گئی، تاہم وہ محفوظ رہا اور اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گیا۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ حملے اچانک مؤخر کرتے ہوئے جنگ بندی کو برقرار رکھنے کا عندیہ دیا، لیکن تہران نے اس اقدام کو ناکافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ مکمل سیزفائر اسی وقت ممکن ہے جب امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا ممکن نہیں۔
امریکی فوج نے بھی دباؤ برقرار رکھتے ہوئے 30 سے زائد جہازوں کا رخ موڑنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایشیائی پانیوں میں چند ایرانی آئل ٹینکرز کو بھی روکنے کی اطلاعات ہیں۔
امریکا ایران امن مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں اور کسی نئے معاہدے یا جنگ بندی کی واضح تاریخ سامنے نہیں آئی




