Citizens worried about security lockdown-like situation in Rawalpindi, closed roads and transport suspension
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکا اور ایران کے ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر سخت سیکیورٹی اقدامات نے راولپنڈی میں معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے، جہاں شہری بند سڑکوں، ٹرانسپورٹ کی معطلی اور غیر واضح ہدایات کے باعث پریشانی کا شکار ہیں۔
نور خان ایئربیس اور اسلام آباد سے ملحقہ اہم شاہراہوں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا ہے، جبکہ مری روڈ اور پرانے ایئرپورٹ کے اطراف بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ اس کے برعکس شہر کے بعض تجارتی علاقوں میں معمول کی سرگرمیاں جاری رہیں، جس سے مجموعی صورتحال غیر یقینی دکھائی دی۔
میٹرو بس اور الیکٹرک بس سروس کی معطلی نے شہریوں کیلئے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث کرایوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ لوگوں کو روزمرہ سفر کیلئے متبادل اور مہنگے ذرائع اختیار کرنا پڑے۔
تعلیمی اداروں میں بھی یکساں پالیسی نہ ہونے سے طلبہ اور والدین کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کچھ نجی اسکولوں نے تعطیلات کا اعلان کیا جبکہ سرکاری اسکول کھلے رہے۔ یونیورسٹیوں نے آن لائن کلاسز شروع کر دی ہیں، تاہم مختلف اداروں کی جانب سے مختلف شیڈول جاری کیے گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں عام تعطیل نہیں دی گئی اور سیکیورٹی اقدامات احتیاطی نوعیت کے ہیں، تاہم میٹرو اور الیکٹرک بس سروس چند روز تک معطل رہ سکتی ہے۔
شہریوں نے شکایت کی ہے کہ واضح ہدایات نہ ہونے کے باعث روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے اور اگر صورتحال برقرار رہی تو مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔





