Trump's final warning on the Strait of Hormuz Threat of war or pressure, tension in the region at a new level
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے منگل شام 8 بجے تک کی واضح ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بصورتِ دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس سخت بیان نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، تاہم ماہرین اسے براہِ راست جنگ کے بجائے دباؤ کی حکمتِ عملی بھی قرار دے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں پاور پلانٹ اور پلوں کو نشانہ بنانے کا ذکر کرتے ہوۓ کہا کہ ممکنہ کارروائی محدود نوعیت کی ہو سکتی ہے، جس کا مقصد مکمل جنگ کے بجائے دباؤ بڑھانا ہے۔
مائیکل فرومین کے مطابق امریکہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے 11 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے، لیکن ان کے بقول اصل چیلنج واضح کامیابی حاصل کرنا ہے، کیونکہ ایران جزوی نقصان کے باوجود خود کو کامیاب ظاہر کر سکتا ہے۔
دوسری جانب تھامس ایس وارک کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفراسٹرکچر پر حملہ کیا تو ایران بھی خلیجی خطے میں جوابی کارروائی کر سکتا ہے، جس سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
معاشی ماہر ڈینیئل بائی مین نے خبردار کیا ہے کہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ عالمی معیشت کو شدید متاثر کر سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں کساد بازاری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
امریکی سینیٹرز ایڈورڈ مارکی، ایلیسا سلوٹکن اور برائن شیٹز نے بھی اس پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سفارتکاری کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی کی طرح اس بار بھی سخت بیانات کے بعد پسِ پردہ مذاکرات یا ڈیڈ لائن میں توسیع کا امکان موجود ہے۔ امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں یا تو محدود کارروائی کی جائے گی یا پھر کسی سفارتی پیش رفت کی بنیاد پر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔




