Strait of Hormuz crisis A major threat of inflation and economic pressure for Pakistan
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) جیو نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی ایک تازہ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پاکستان کی معیشت کیلئے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ ملک توانائی درآمدات پر بھاری انحصار رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل روزانہ اس اہم گزرگاہ سے ہوتی ہے، جس کے باعث یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈی میں قیمتوں میں فوری اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال اس لیے زیادہ حساس ہے کیونکہ مجموعی درآمدات میں توانائی کا حصہ 22 فیصد سے زائد ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر عالمی تیل کی سپلائی میں معمولی خلل بھی آئے تو آئندہ چند ماہ میں مہنگائی 8.8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ دباؤ بڑھنے کی صورت میں یہ شرح 10 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔ شدید بحران کی صورت میں مہنگائی 12 فیصد سے بھی اوپر جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ صرف خام تیل تک محدود نہیں رہتا بلکہ شپنگ اخراجات، انشورنس، روپے کی قدر میں کمی اور ٹیکسز بھی قیمتوں کو مزید بڑھا دیتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر عام صارفین پر پڑتا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ ہرمز میں بڑی سطح کی رکاوٹ کی صورت میں پاکستان کا ماہانہ پیٹرولیم درآمدی بل نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے اور روپے پر دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ شفاف فیول پرائسنگ نظام اپنائے، توانائی کی سپلائی چین کو مستحکم بنائے اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرے تاکہ ممکنہ بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔



