Peshawar High Court decision POR and ACC cards ineffective, orders return of Afghan citizens
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے افغان شہریوں کے قیام سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پروف آف رجسٹریشن اور افغان سٹیزن کارڈ اب پاکستان میں رہائش کے لیے قابلِ قبول دستاویزات نہیں رہے، جس کے بعد ان کارڈز کے حامل افراد کا قیام غیرقانونی تصور ہوگا۔
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی سربراہی میں سنگل بینچ نے غیرقانونی قیام کے الزام میں گرفتار تقریباً 50 افغان شہریوں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کے پاس کوئی مؤثر قانونی دستاویز موجود نہیں تھی، جس کی بنیاد پر وہ پاکستان میں رہ سکتے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بادی النظر میں یہ افراد فارنرز ایکٹ 1946 کی متعلقہ دفعات کے تحت جرم کے مرتکب ہوئے ہیں، جبکہ قانون کے مطابق ایسے غیرملکی افراد کو ضمانت دینا بھی محدود ہے جو بغیر اجازت ملک میں مقیم ہوں۔
سماعت کے دوران حکومتی نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت پہلے ہی ان کارڈز کی حیثیت ختم کر چکی ہے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ پی او آر کارڈز کی مدت 30 جون 2025 تک تھی، جس کے بعد ان کی قانونی حیثیت ختم ہو گئی، جبکہ اے سی سی کارڈ ہولڈرز کی مرحلہ وار واپسی کا عمل بھی شروع کیا جا چکا ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ غیرقانونی غیرملکیوں کی واپسی منصوبہ کے تحت متعلقہ اداروں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے ملک بدر کریں۔
فیصلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمام گرفتار افغان شہریوں کی ایک ماہ کے اندر واپسی یقینی بنائی جائے، بصورت دیگر ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔





