The burden of the Iran war falls on the Gulf countries, raising questions about America's strategy.
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران۔امریکا جنگ کے بعد خلیجی عرب ممالک میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے اور علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تنازع کے معاشی اور سکیورٹی اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ خلیج کے تیل پیدا کرنے والے ممالک پر پڑ رہا ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق خلیجی دارالحکومتوں میں پسِ پردہ یہ تشویش پائی جا رہی ہے کہ انہیں ایسی جنگ کے اثرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جسے نہ انہوں نے شروع کیا اور نہ ہی اس کی حمایت کی تھی۔ حالیہ ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے باعث خطے کے کئی ایئرپورٹس، بندرگاہیں، ہوٹل اور تیل و فوجی تنصیبات متاثر ہوئی ہیں جس سے کاروباری اعتماد اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں قائم ایمریٹس پالیسی سینٹر کی صدر ابتسام الکتبی نے کہا کہ یہ تنازع خلیجی ممالک کی خواہش کے بغیر شروع ہوا، مگر اس کی قیمت انہیں اپنی سکیورٹی اور معیشت کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں نہ صرف اسرائیل بلکہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی دباؤ کا شکار ہے۔ اس سمندری راستے سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔
جنگ کے اثرات فضائی سفر پر بھی پڑے ہیں۔ خطے کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث ایئرلائنز کو تقریباً 40 ہزار پروازیں منسوخ کرنا پڑیں، جسے ماہرین کووڈ-19 وبا کے بعد عالمی فضائی سفر کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے رہے ہیں۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک کے سیاحت کے شعبے کو بھی متاثر کیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد ایران کی جوابی میزائل صلاحیت میں تقریباً 90 فیصد کمی آ چکی ہے اور واشنگٹن خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔



