US President's statement causes turmoil in global markets, oil prices fall
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے جلد خاتمے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال ان کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا اور قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے خلاف جنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے اور امریکا اس معاملے میں اپنے اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر اس جنگ کے لیے چار سے پانچ ہفتوں کا تخمینہ لگایا گیا تھا، تاہم موجودہ پیش رفت اس سے کہیں زیادہ تیز ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 4.2 فیصد کمی کے بعد 94.79 ڈالر فی بیرل تک آ گئی جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 4 فیصد کمی کے ساتھ 90.96 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
ایک روز قبل تیل کی قیمتیں 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں جو 2022 کے وسط کے بعد بلند ترین سطح تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی جنگی کشیدگی اور عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے باعث ہوا تھا۔
ٹرمپ کے بیان اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ممکنہ سفارتی رابطوں کی خبروں کے بعد مارکیٹ میں خدشات کسی حد تک کم ہو گئے جس کے نتیجے میں قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔






