Ali Khamenei's son Mojtaba Khamenei elected as Iran's new supreme leader
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق ایران کی بااختیار مجلس خبرگان نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر نامزد کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ اتوار کو کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد قیادت کے خلا کو پر کرنے کے لیے مجلس خبرگان نے اجلاس میں نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب پر غور کیا اور مجتبیٰ خامنہ ای کے نام پر اتفاق کیا۔
مجلس خبرگان کے رکن آیت اللہ محسن حیدری الکثیر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ نئے سپریم لیڈر کا انتخاب اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا کہ ایران کا رہنما ایسا ہونا چاہیے جسے دشمن ناپسند کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ بھی اس شخصیت کا نام لے چکا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چند روز قبل مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی قیادت کے لیے ناقابل قبول قرار دے چکے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کو طویل عرصے سے ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے بعض حلقوں میں اپنے والد کا ممکنہ جانشین سمجھا جاتا تھا۔ وہ طاقتور اسلامی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی روابط رکھتے ہیں اور ایران کے سیکیورٹی و سیاسی ڈھانچے میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
1969 میں مشہد میں پیدا ہونے والے مجتبیٰ خامنہ ای نے نوجوانی میں ایران عراق جنگ میں حصہ لیا۔ بعد ازاں انہوں نے قم کے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کی اور انہیں مذہبی درجہ حجت الاسلام حاصل ہے۔
اگرچہ وہ اب تک ایران کی حکومت میں کسی باضابطہ عہدے پر فائز نہیں رہے، تاہم انہیں طویل عرصے سے رہبرِ اعلیٰ کے دفتر میں بااثر شخصیت اور پسِ پردہ فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔




