Khamenei's martyrdom, violent protests outside the US consulate in Karachi, 10 people killed, 31 injured.
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کے مطابق کراچی میں امریکی قونصل خانے کے قریب اتوار کو ہونے والا احتجاج پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہوگیا جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور 31 زخمی ہوگئے۔ واقعہ مائی کولاچی روڈ پر پیش آیا جہاں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب ہجوم نے سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی۔
یہ احتجاج ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شھادت کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ تہران پر حالیہ فضائی حملوں کے بعد وہ غم و غصے کے اظہار کے لیے جمع ہوئے۔ بعض مذہبی و سیاسی حلقوں کی جانب سے احتجاج کی کال دی گئی تھی، جس کے باعث امریکی قونصل خانے کے باہر بڑی تعداد میں افراد پہنچ گئے۔
سول اسپتال کراچی کے ٹراما سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد صابر میمن کے مطابق جاں بحق افراد کو گولیوں کے زخم آئے، جبکہ درجنوں زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بتایا کہ ابتدائی طور پر چھ لاشیں سول اسپتال منتقل کی گئیں۔ دوسری جانب جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں دو پولیس اہلکار بھی زیر علاج ہیں جنہیں شدید چوٹیں آئیں۔

ایدھی ذرائع کے مطابق پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کے دوران فائرنگ بھی ہوئی، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ گولیاں کس جانب سے چلیں۔
سندھ حکومت نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاکتوں کی سرکاری تعداد چھ بتائی ہے اور اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جے آئی ٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
حکام کے مطابق جے آئی ٹی واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔ وزیر داخلہ سندھ نے پولیس حکام سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے حساس تنصیبات کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔
احتجاج کے باعث سلطان آباد سے مائی کولاچی تک دونوں اطراف کی سڑکیں بند رہیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب لاہور میں بھی امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج کیا گیا جبکہ اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔



