73 checkpoints are a pile of rubble, 18 are occupied Pakistan is a partner of terrorism, DG ISPR gives a stern warning to the Afghan Taliban
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق آئی ایس پی آرکے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغان طالبان حکومت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں واضح طور پر فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ۔ ان کا کہنا تھاکہ یہ انتخاب اب ناگزیر ہے۔ ہماری پہلی اور آخری ترجیح پاکستان کی سلامتی اور اس کے عوام کا تحفظ ہے۔
پریس کانفرنس میں سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان فِتنہ الخوارج نے خیبر پختونخوا میں پاک۔افغان سرحد کے ساتھ 53 مختلف مقامات پر مربوط حملے کیے۔ ان حملوں میں بھاری اور ہلکے ہتھیاروں کے ساتھ مسلح کواڈ کاپٹرز بھی استعمال کیے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج مکمل تیاری کے ساتھ موجود تھی اور فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا گیا۔
مزید پڑھیے : سرحد پار حملوں کا سخت جواب:آپریشن غضب لِلحق میں بڑا جوابی وار، فضائی و زمینی کارروائی میں متعدد ٹھکانے تباہ
انہوں نے بتایا کہ جوابی کارروائی کے طور پر آپریشن غزبُ الحق شروع کیا گیا، جس کے تحت اب تک 274 افغان طالبان اہلکار اور دہشت گرد مارے گئے جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے۔ سرحد کے ساتھ افغان طالبان کی 73 چوکیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں اور 18 پر قبضہ کر لیا گیا۔ مزید برآں، محتاط اندازوں کے مطابق 115 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپخانے کا سازوسامان بھی تباہ کیا گیا۔
ان کے مطابق انٹیلی جنس بنیادوں پر کابل، قندھار، پکتیا، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں 22 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کور اور بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، اسلحہ ڈپو، لاجسٹک بیسز اور دہشت گردوں کی پناہ گاہیں شامل تھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام اہداف فوجی نوعیت کے تھے اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان سے بچانے کیلئے انتہائی احتیاط برتی گئی۔
ان کے مطابق پاکستانی افواج کے 12 جوان شہید، 27 زخمی جبکہ ایک اہلکار لاپتہ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے بہادر سپاہیوں پر فخر کرتی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارتی سرپرستی واضح ہے اور افغان سرزمین کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہر چیز سے مقدم ہے، اور اس کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔




