Declaring the West Bank as state property is open aggression, Foreign Minister's categorical stance in Jeddah
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے وسیع علاقوں کو ریاستی ملکیت میں تبدیل کرنے کا اسرائیلی فیصلہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کا واضح ثبوت ہے، جو بین الاقوامی قانون اور انسانی اصولوں سے صریح انحراف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری خاموش تماشائی نہ بنے بلکہ ان اقدامات کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
وہ جدہ میں منعقدہ او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جو ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیلی حکومت نے 1967 کے بعد پہلی بار مقبوضہ مغربی کنارے کے بڑے حصوں کو باضابطہ طور پر اسٹیٹ پراپرٹی قرار دینے کی منظوری دی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور الحاق کی کوششیں خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان کے بقول یہ اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اس سے علاقائی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے یاد دلایا کہ ستمبر 2025 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر آٹھ اسلامی ممالک کے رہنماؤں نے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور جامع امن عمل کے لیے سفارتی کوششیں کی تھیں اور مغربی کنارے کے الحاق نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، مگر زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان آٹھ اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر مستقل اور پائیدار جنگ بندی، غزہ کی فوری تعمیر نو اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عملی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔
وزیر خارجہ نے او آئی سی رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے ڈی فیکٹو الحاق کے تمام اقدامات کی فوری واپسی یقینی بنانے کے لیے متحد ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان فلسطینی کاز کے لیے ہر سفارتی محاذ پر سرگرم رہے گا اور عرب ممالک کی علاقائی سالمیت کے دفاع میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔




