Upheaval in the region after cross-border action Pakistan's clear message, no compromise on security
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک ڈان نیوز کی خبر کے مطابق ملک میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی لہر کے بعد پاکستان نے سرحد پار مؤثر کارروائی کا دعویٰ کیا ہے، جس کے مطابق افغانستان کے صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں شدت پسند تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی جس میں کالعدم ٹی ٹی پی اور آئی ایس۔کے سے وابستہ مراکز کو نقصان پہنچایا گیا اور درجنوں جنگجو مارے گئے۔
یہ پیش رفت وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیان کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان خطرے کے مراکز کو ہدف بنائے گا۔ حکومتی حلقے اس اقدام کو اسی پالیسی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات نے پیر کو کہا کہ “قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس صورتحال کا مناسب جواب دے گی۔ افغان حکام نے شہری ہلاکتوں کا الزام بھی عائد کیا، تاہم پاکستانی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق کارروائی مخصوص دہشت گرد اہداف تک محدود رہی۔
رواں ماہ پاکستان میں کئی بڑے حملے ہو چکے ہیں، جن میں اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ پر دھماکہ، اور باجوڑ و بنوں میں سکیورٹی فورسز پر حملے شامل ہیں۔ ان واقعات کی ذمہ داری مختلف شدت پسند گروہوں پر عائد کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں ان حملوں کی منصوبہ بندی میں استعمال ہو رہی تھیں۔
وزارت اطلاعات کے مطابق کابل حکومت اپنی سرزمین پر سرگرم شدت پسند عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس میں بھی سرحدی علاقوں میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ افغان طالبان بعض گروہوں کی مخالفت کا دعویٰ کرتے ہیں، تاہم زمینی حقائق مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔





