Change in Saudi stance, Israel has serious concerns about restoring relations
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)بلومبرگ نے رپورٹ کیا ہے اسرائیل میں یہ تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کا امکان اب مستقبل قریب میں کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق سعودی عرب کی حالیہ دفاعی اور علاقائی پالیسیوں میں تبدیلیوں نے اسرائیل میں شکوک کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ جنگ کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی قیادت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا سعودی عرب کا موجودہ سخت مؤقف عارضی ہے یا مملکت خطے میں طاقت کے توازن کو مستقل طور پر نئے انداز میں ترتیب دے رہی ہے۔ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ سعودی فیصلے اسرائیل کے لیے ایک سنجیدہ سفارتی چیلنج بن چکے ہیں۔
غزہ جنگ سے قبل دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کو قریب سمجھا جا رہا تھا، تاہم جنگ کے بعد سعودی عرب نے واضح کر دیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل سے تعلقات ممکن نہیں۔ اس کے برعکس موجودہ اسرائیلی حکومت دو ریاستی حل کو مسترد کر چکی ہے، جس سے فاصلہ مزید بڑھ گیا ہے۔
اسرائیل کی تشویش میں اس وقت اضافہ ہوا جب سعودی عرب نے گزشتہ برس پاکستان کے ساتھ دفاعی اتحاد پر دستخط کیے، جبکہ ترکی نے بھی اس معاہدے میں شمولیت پر بات چیت کی تصدیق کی۔ اسی دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یمن اور دیگر علاقائی معاملات پر اختلافات کھل کر سامنے آئے، جو اسرائیل کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔
سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ فلسطینی ریاست کے قیام کی واضح ضمانت دی جائے۔ ریاض کے مطابق دو ریاستی حل کو مسترد کرنا خطے میں تشدد اور عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتا ہے۔




