Comprehensive Master Plan for Gaza Presented: Jared Kushner's 30-day appeal, announcement of reconstruction and demilitarization
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) نیو یارک ٹائمز کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غزہ کے مستقبل کے لیے ایک جامع اور پرکشش مگر انتہائی متنازع “نیو غزہ ماسٹر پلان” پیش کر دیا ہے، جس کے تحت ساحلی پٹی پر فلک بوس عمارتیں، نئے شہر، جدید انفراسٹرکچر اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شامل ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت کم از کم 25 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔
یہ منصوبہ امریکی صدر کے داماد اور سابق سینئر وائٹ ہاؤس ایڈوائزر جیرڈ کشنر نے ایک خصوصی تقریب میں پیش کیا، جو صدر ٹرمپ کے اعلان کردہ “بورڈ آف پیس” کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ کشنر نے سلائیڈ شو کے ذریعے غزہ کے ساحل پر بلند ہوتی جدید عمارتوں، مکمل طور پر نئے شہری مراکز اور صنعتی زونز کے خاکے پیش کیے۔
جیرڈ کشنر نے بتایا کہ غزہ کی تعمیر نو مرحلہ وار کی جائے گی، جس کا آغاز جنوبی علاقوں سے ہوگا، جہاں سب سے پہلے رفح شہر کو دوبارہ آباد کیا جائے گا، جسے جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق رفح کی تعمیر نو دو سے تین سال میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم تباہ کن کامیابی کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں، ہمارے پاس کوئی پلان بی نہیں۔”

تاہم اس منصوبے کو زمینی حقائق کے باعث شدید چیلنجز درپیش ہیں۔ حماس نے تاحال ہتھیار ڈالنے یا اپنی عسکری تنظیم تحلیل کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی جبکہ امریکہ اب تک کسی موثر بین الاقوامی امن فورس کے لیے ممالک کو قائل کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔ مزید یہ کہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ 25 ارب ڈالر سے زائد کی خطیر رقم کہاں سے آئے گی۔
تقریب کے دوران صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ حماس کی غیر فوجی کاری اس منصوبے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا، “انہیں اپنے ہتھیار چھوڑنا ہوں گے، ورنہ یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکے گا۔”
امریکی منصوبے کے تحت حماس روزمرہ انتظامی امور ایک فلسطینی تکنیکی کمیٹی کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو گئی ہے، تاہم سکیورٹی کنٹرول چھوڑنے سے انکار اب بھی برقرار ہے، جس کے باعث تعمیر نو کے عمل پر غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
جیرڈ کشنر نے مزید اعلان کیا کہ امریکہ چند ہفتوں میں واشنگٹن میں غزہ سرمایہ کاری کانفرنس منعقد کرے گا، جہاں عالمی سرمایہ کاروں کو غزہ میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے گی۔ ان کے مطابق اگرچہ یہ عمل خطرے سے خالی نہیں، تاہم اس میں غیر معمولی معاشی مواقع بھی موجود ہیں۔





