A new beginning for peace in Gaza: Trump announces the formation of a 'Peace Board'
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے اپنے 20 نکاتی امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی ’بورڈ آف پیس‘ تشکیل دے دی ہے۔ اس مرحلے میں توجہ جنگ بندی کے نفاذ سے آگے بڑھ کر غزہ کی غیر فوجی حیثیت، عبوری تکنوکریٹ حکومت اور وسیع پیمانے پر تعمیرِ نو پر مرکوز کی گئی ہے۔
صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کے مطابق، یہ اقدام جنگ سے تباہ حال غزہ میں استحکام لانے اور انتظامی و سکیورٹی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے اہم ہے۔ وِٹکوف نے کہا کہ “آج ہم فیز ٹو کا آغاز کر رہے ہیں، جس میں غیر فوجی نظام، تکنوکریٹ حکمرانی اور تعمیرِ نو شامل ہے۔” اس منصوبے کے تحت غزہ میں ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ قائم کی جائے گی اور تمام غیر مجاز مسلح عناصر کو غیر مسلح کیا جائے گا۔ وِٹکوف نے حماس کو خبردار کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے وعدوں پر عمل کرے، بصورت دیگر سخت نتائج سامنے آئیں گے۔
فیز ون کے دوران اب تک تمام زندہ یرغمالیوں کی واپسی ممکن ہوئی اور 28 میں سے 27 ہلاک یرغمالیوں کی باقیات واپس لائی گئی ہیں۔ وِٹکوف نے اس پیش رفت میں مصر، ترکی اور قطر کے کردار کو “ناگزیر” قرار دیا، جنہوں نے ثالثی اور تعاون میں اہم کردار ادا کیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق بورڈ آف پیس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، صدر کے مشیر جیرڈ کشنر، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور برطانیہ کے سابق وزیرِاعظم ٹونی بلیئر شامل ہیں۔ یہ بورڈ غزہ میں حکمرانی، سکیورٹی، تعمیرِ نو اور بین الاقوامی وسائل کی ہم آہنگی کی نگرانی کرے گا۔ اس کے علاوہ امریکا ایک بین الاقوامی استحکام فورس بھی تعینات کرے گا اور ایک اعلیٰ نمائندہ مقرر کرے گا جو عبوری نظام کے تحت تمام سرگرمیوں کو مربوط کرے گا۔
مزید خبریں: مشترکہ فوجی مشقیں اور بڑے معاہدے، پاک۔امریکا دفاعی روابط میں تیزی
زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے کیونکہ حماس نے غیر مسلح ہونے سے انکار کیا ہے اور آخری یرغمالی کی باقیات واپس نہیں کی ہیں۔ اکتوبر میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے پر لڑائی میں کمی آئی ہے، تاہم وقفے وقفے سے جھڑپیں اور فضائی حملے جاری ہیں، جس سے مستقل امن کا منظر نامہ غیر یقینی ہے۔
صدر ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کو “سب سے عظیم اور باوقار بورڈ” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فورم غزہ کو جنگ سے نکال کر استحکام، ترقی اور امن کی راہ پر ڈالنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔






