
بلوچستان میں ٹی بی کے کیسز میں خطرناک اضافہ،سال بھر میں 18 ہزار مریض رپورٹ
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان میں بالخصوص جیلوں کے اندر تپِ دق (ٹی بی) کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور رواں سال کے دوران صوبے بھر میں 16 ہزار سے 18 ہزار تک کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ انکشاف صوبائی منیجر ٹی بی کنٹرول پروگرام بلوچستان ڈاکٹر شیر افغان رئیسانی نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ان کے ہمراہ کوئٹہ ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ایس ایس پی حمیداللہ پیچو، ٹی بی کنٹرول پروگرام کے پراجیکٹ منیجر ڈاکٹر عرفان اور دیگر طبی ماہرین موجود تھے۔
ڈاکٹر رئیسانی نے بتایا کہ صوبے کی 12 جیلوں میں 3,000 قیدیوں میں متعدی اور غیر متعدی بیماریوں کی جامع اسکریننگ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ٹی بی پروگرام کے تحت صوبے بھر کے 250 مراکز میں ٹی بی مریضوں کی مفت تشخیص اور علاج جاری ہے۔ مزید یہ کہ 20 اضلاع میں سرکاری و نجی اسپتالوں کے 650 ڈاکٹرز ٹی بی کی تشخیص اور علاج کو یقینی بنا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتالوں میں ٹی بی اسکریننگ کو جدید بنانے کے لیے 100 سے زائد جدید ایف ایم مائیکرو اسکوپس اور 30 اے آئی بیسڈ ڈیجیٹل ایکسرے مشینیں فراہم کی گئی ہیں۔ صوبے میں منشیات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے (ڈرگ ریزسٹنٹ) ٹی بی کے علاج کے مراکز تین سے بڑھا کر گیارہ کر دیے گئے ہیں۔
رواں سال صوبے میں 16 ہزار سے 18 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر رئیسانی نے بتایا کہ پہلی بار محکمہ صحت بلوچستان، ٹی بی کنٹرول پروگرام، محکمہ جیل خانہ جات اور دوپاسی فاؤنڈیشن نے صوبے کی تمام 12 جیلوں میں مربوط ہیلتھ اسکریننگ پروگرام شروع کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد قیدیوں، جیل عملے اور متعلقہ سکیورٹی فورسز کو متعدی اور غیر متعدی بیماریوں کی معیاری تشخیص اور علاج فراہم کرنا ہے۔
رواں سال ستمبر میں ایک ماہ پر مشتمل اسکریننگ مہم کے دوران مجموعی طور پر 2,930 افراد کی اسکریننگ کی گئی، جن میں 2,558 قیدی اور 371 جیل عملہ شامل تھا۔ اسکریننگ میں ٹی بی، ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور سی، ہائی بلڈ پریشر، ذیابطیس، موٹاپا، ذہنی صحت، غذائیت اور طرزِ زندگی سے متعلق خطرات کو شامل کیا گیا۔ ٹی بی اسکریننگ کے لیے جدید اے آئی فعال ڈیجیٹل ایکسرے ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، جس میں 139 افراد کے نتائج مشتبہ آئے۔ مزید جانچ کے لیے جین ایکسپرٹ ٹیسٹ کیا گیا جس سے 11 افراد میں ٹی بی کی تصدیق ہوئی۔ تمام کیسز ڈرگ سینسیٹو پائے گئے اور مریضوں کو فوراً علاج سے منسلک کر دیا گیا۔
ایچ آئی وی اسکریننگ میں آٹھ مثبت کیسز سامنے آئے، جبکہ 61 افراد میں ہیپاٹائٹس بی اور 93 میں ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص ہوئی۔ اگرچہ خواتین قیدی جیل کی مجموعی آبادی کا صرف 2.6 فیصد تھیں، لیکن ان میں ہیپاٹائٹس کی شرح نسبتاً زیادہ پائی گئی۔






