Skip to content

اردو انٹرنیشنل

ڈیجیٹل دنیا میں اردو کی نمائندگی، ایشیا اور جنوبی ایشیا سے آپ تک

Primary Menu
  • صفحۂ اول
  • سیاست
  • پاکستان
  • چین
  • ایشیا
  • کالم کار
  • جنتا کی آواز
  • کاروبار
  • کھیل
  • محاذ
  • Ticker
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • چین

ٹرمپ کا افغانستان میں بگرام ایئربیس دوبارہ حاصل کرنے کا اعلان: چین کو پیغام؟

1 minute read
US China rivalry on Afghanistan

لندن- سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ افغانستان میں واقع بگرام ایئربیس کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کی وجہ اس سابق امریکی اڈے کا چین کے جوہری تنصیبات کے قریب ہونا بتائی ہے۔

لندن میں برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا،

“ہم اس اڈے کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ اس جگہ سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے جہاں چین اپنے جوہری ہتھیار بناتا ہے۔”

ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑی حد تک فلسطینی ریاست کے حوالے سے کیئر اسٹارمر پر تنقید کرنے یا آزادی اظہار رائے پر برطانیہ پر حملہ کرنے سے گریز کیا۔

بگرام ایئر بیس، جو کابل سے 44 کلومیٹر شمال میں واقع ہے، 20 سالہ امریکی قیادت میں ہونے والی أفغانستان کی جنگ اور اس سے جڑے آپریشنز کا مرکزی مرکز تھا۔ طالبان جنگجوؤں کے ساتھ دوحہ میں ہونے والے  مذاکرات اور اس کے نتیجے میں فروری ‌۲۰۱۹  میں ہونے والے معا ہدے کے تحت اگست 2021 میں صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکی اور نیٹو افواج نے أفغانستان سے کوچ کیا، جس کے نتیجے میں أفغان صدر اشرف غنی کی حکومت ختم ہوئ اور طالبان جنگجو برسر اقتدار آگئے۔ اس وقت یہ اڈہ افغان طالبان کی وزارت دفاع کے زیر کنٹرول ہے۔

تاہم، کابل حکومت نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ افغان وزارت خارجہ کے ایک نمائندے زکر جلال نے کہا ہے کہ افغانستان اور امریکہ کو ایک دوسرے کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی بنیادوں پر تعلقات مضبوط کرنے چاہئیں، مگر امریکی فوجی موجودگی کی بحالی قابل قبول نہیں۔

ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد بار اس اڈے کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ اس پر چین کا کنٹرول ہے، تاہم افغان حکام اور چین دونوں ہی اس دعوے کی تردید کر چکے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد اکتوبر 2021 سے افغانستان کی طالبان حکومت کے چیف ترجمان ہیں۔

افغان حکومت اور چین دونوں ہی ٹرمپ کے ان دعوؤں کو رد کر چکے ہیں کہ چین نے اس اڈے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مارچ 2025 میں ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ “غیر مصدقہ معلومات پر مبنی جذباتی بیانات” سے گریز کرے۔

 

دوسری جانب واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو نے بھی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ کی وسطی ایشیا میں کوئی فوجی موجودگی نہیں ہے اور وہ اپنی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی کی سختی سے مخالفت کرے گا۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ بگرام ایئربیس پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے ایک بڑی فوجی کارروائی کی ضرورت ہوگی، جس میں 10 ہزار سے زائد فوجی اور جدید فضائی دفاعی نظام کی تعیناتی شامل ہوسکتی ہے، جو ملک پر دوبارہ حملے کے مترادف ہوگا۔ حکام نے واضح کیا کہ فی الحال بگرام پر فوجی قبضے کی کوئی فعال منصوبہ بندی نہیں ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ 2021 میں بگرام سے امریکی افواج کا انخلا افراتفری کے عالم میں ہوا تھا، جس کے بعد افغان حکومت اور سیکیورٹی فورسز تیزی سے تحلیل ہو گئی تھیں اور طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے فروری 2020 میں طالبان کے ساتھ فوجیوں کے انخلا کے معاہدے پر بات چیت کی تھی، تاہم اس پر عمل درآمد جو بائیڈن کی صدارت میں ہوا۔

افغانستان سے نکلنے والے آخری امریکی فوجی میجر جنرل کرس ڈوناہو کو کم از کم 17 بار تعینات کیا گیا ہے جن میں چار بار افغانستان بھی شامل ہے۔
افغانستان سے نکلنے والے آخری امریکی فوجی میجر جنرل کرس ڈوناہو کو کم از کم 17 بار تعینات کیا گیا ہے جن میں چار بار افغانستان بھی شامل ہے۔

 

پاکستان کے سیکیورٹی خدشات

پاکستانی سیکیورٹی ادارے بارہا اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ امریکہ اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے جدید ہتھیار، گاڑیاں، اور نائٹ وژن آلات اب شدت پسند گروہوں — خاص طور پر ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں — کے ہاتھ آ چکے ہیں۔

Pakistani customs officials announced the discovery and seizure of a shipment of weapons left behind by US forces in Afghanistan at the Torkham crossing.
پاکستانی کسٹم حکام نے طورخم کراسنگ پر افغانستان میں امریکی افواج کی طرف سے چھوڑے گئے ہتھیاروں کی ایک کھیپ دریافت اور ضبط کرنے کا اعلان کیا۔ اکتوبر 2024

پاکستانی فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان ہتھیاروں کے ذریعے ہونے والے درجنوں حملوں کا سامنا کر چکے ہیں:

  • دسمبر 2022 میں وانا، جنوبی وزیرستان میں پاک فوج کے 6 جوان شہید ہوئے — حملے میں امریکی ساختہ ایم-4 رائفلز استعمال ہوئیں۔
  • جنوری 2023 میں خضدار، بلوچستان میں فوجی قافلے پر حملے میں RPG-7 اور نائٹ وژن ڈرون استعمال ہوا — جو ممکنہ طور پر چھوڑے گئے امریکی ساز و سامان کا حصہ تھا۔
  • اگست 2025 میں لکی مروت میں پولیس چوکی پر حملے میں 9 اہلکار ہلاک ہوئے، حملہ آوروں کے قبضے سے امریکی ساختہ اسلحہ برآمد ہوا۔

یہ واقعات پاکستان کے لیے نہ صرف اندرونی سلامتی کا بحران بن چکے ہیں بلکہ افغانستان کی سرزمین سے کام کرنے والے گروہوں کے ساتھ امریکا اور طالبان کے معاہدوں پر بھی سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں۔

اسلام آباد میں سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ،

ہمیں بگرام کے کنٹرول سے زیادہ، اس بات کی فکر ہے کہ امریکہ کی واپسی کے بعد جو جدید ہتھیار افغانستان میں رہ گئے، وہ اب ہمارے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔

بگرام ایئربیس کی حیثیت اب ایک جیو پولیٹیکل پاور پلی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ایک طرف امریکہ اسے چین کے خلاف اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر واپس چاہتا ہے، دوسری طرف پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک اس کی سیکیورٹی قیمت چکا رہے ہیں۔

 

Tags: افغان طالبان افغانستان امریکہ امریکہ اور چین امریکی ہوائی اڈا بگرام بھارت پاکستان جوہری تنصیبات چین دہشتگردی طالبان طالبان دہشتگردی

Post navigation

Previous: پاکستان-سعودی دفاعی معاہدہ: مسلم دنیا کے لیے نیا سکیورٹی فریم ورک یا عالمی طاقتوں کے لیے نیا چیلنج؟
Next: نیا اسلامی نیٹو؟ پاکستان–سعودی عرب دفاعی معاہدہ خطے کی سیاست بدلنے لگا

Pakistan's Growing Mediation Role in Global Disputes A Look at Diplomatic History
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

عالمی تنازعات میں پاکستان کا بڑھتا ہوا ثالثی کردار:سفارتی تاریخ پر ایک نظر

Peace talks Chances of immediate agreement low, but diplomatic progress important Report
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

امن مذاکرات:فوری معاہدے کے امکانات کم، مگر سفارتی پیش رفت اہم قرار: رپورٹ

Important US-Iran talks in Islamabad, Pakistan becomes the center of global attention
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اہم مذاکرات، پاکستان عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

یہ بھی پڑہیے

Glenn Maxwell arrives in Pakistan to play PSL-FB
  • کھیل

گلین میکسویل پی ایس ایل کھیلنے پاکستان پہنچ گئے

Pakistan's Growing Mediation Role in Global Disputes A Look at Diplomatic History
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

عالمی تنازعات میں پاکستان کا بڑھتا ہوا ثالثی کردار:سفارتی تاریخ پر ایک نظر

Peace talks Chances of immediate agreement low, but diplomatic progress important Report
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

امن مذاکرات:فوری معاہدے کے امکانات کم، مگر سفارتی پیش رفت اہم قرار: رپورٹ

Important US-Iran talks in Islamabad, Pakistan becomes the center of global attention
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اہم مذاکرات، پاکستان عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

Calendar

April 2026
MTWTFSS
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930 
« Mar    

Top News

Pakistan's Growing Mediation Role in Global Disputes A Look at Diplomatic History
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

عالمی تنازعات میں پاکستان کا بڑھتا ہوا ثالثی کردار:سفارتی تاریخ پر ایک نظر

Peace talks Chances of immediate agreement low, but diplomatic progress important Report
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

امن مذاکرات:فوری معاہدے کے امکانات کم، مگر سفارتی پیش رفت اہم قرار: رپورٹ

Important US-Iran talks in Islamabad, Pakistan becomes the center of global attention
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اہم مذاکرات، پاکستان عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

Iran War 42nd day of US-Israeli attacks, tensions remain despite ceasefire
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

ایران جنگ: امریکی-اسرائیلی حملوں کا 42واں دن، جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار

Iran does not want war, but there will be no compromise on rights: Supreme Leader
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

ایران جنگ نہیں چاہتا مگر حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: مجتبیٰ خامنہ ای

Social Streams

  • Facebook
  • Instagram
  • Twitter
  • Youtube

Categories

Afghanistan Editor's Pick South Asia Ticker Top News آج کے کالمز الیکشن 2024 امریکہ انٹرنیمنٹ انڈیا بین الاقوامی دلچسپ و عجیب سائنس اور ٹیکنالوجی مشرق وسطیٰ ّExclusive پاکستان چین کاروبار کھیل
Copyright © All rights reserved. | MoreNews by AF themes.