Skip to content

اردو انٹرنیشنل

ڈیجیٹل دنیا میں اردو کی نمائندگی، ایشیا اور جنوبی ایشیا سے آپ تک

Primary Menu
  • صفحۂ اول
  • سیاست
  • پاکستان
  • چین
  • ایشیا
  • کالم کار
  • جنتا کی آواز
  • کاروبار
  • کھیل
  • محاذ
  • Top News
  • انڈیا
  • پاکستان

ہماری کیا خطا ہے؟ بھارت سے پاکستانیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی،متعدد خاندان بکھر گئے

What is our fault Mass expulsion of Pakistanis from India, many families torn apart

ہماری کیا خطا ہے؟ بھارت سے پاکستانیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی،متعدد خاندان بکھر گئے

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اپریل میں پہلگام حملے کے بعد بھارت نے 800 پاکستانیوں کو ملک بدر کر دیا۔ بچے ماؤں سے الگ ہوئے، شوہر بیویوں سے بچھڑ گئے۔ سات ماہ گزر جانے کے بعد بھی دوبارہ ملنے کی امید بے حد معدوم ہے۔

سری نگر — بھارتی زیرانتظام کشمیر

سری نگر کی ایک تنگ گلی کی خاموشی کو اچانک سبزی فروشوں کی آوازیں اور دو چھوٹے بچوں کی بے چین چیخیں چیر دیتی ہیں۔

“آنٹی… مجھے امی کے پاس لے چلیں،پولیس انہیں لے گئی !” تین سالہ حسین کھڑکی سے لپٹ کر چلّاتا ہے۔ اس کی ایک سال چھوٹی بہن نوری بھی اس کے ساتھ ہے۔ دونوں کے چہرے زنگ آلود لوہے کی سلاخوں سے باہر جھانک رہے ہیں۔

ان کے والد ماجد* بتاتے ہیں کہ ان کی بیوی سمینہ* — جو پاکستانی شہری تھیں — کو بھارتی حکام نے سات ماہ قبل زبردستی لے جا کر ملک بدر کردیا۔ بچے تب سے تقریباً ہر گزرتے انسان سے یہی فریاد کرتے ہیں۔

ان کی آزمائش کا آغاز اس وقت ہوا جب 22 اپریل 2025 کو بھارتی زیرانتظام کشمیر کے پہلگام میں چھ مسلح افراد — جن میں سے بعض کو پاکستان سے تعلق رکھنے کا الزام تھا — نے سیاحتی مقام پر فائرنگ کر کے 26 افراد کو قتل کر دیا۔

کشمیر جو مسلم اکثریتی خطہ ہے، تقسیم کے بعد سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعے کا مرکز رہا ہے۔ دونوں ایٹمی طاقتیں پورے کشمیر پر دعویٰ کرتی ہیں جبکہ چین بھی اس کا ایک حصہ کنٹرول کرتا ہے۔

انیس سو اسی (1980) کی دہائی کے اواخر میں کشمیر میں بھارت کے خلاف مسلح جدوجہد شروع ہوئی جس میں ہزاروں شہری جان سے گئے۔ اس کے بعد بھارت نے خطے میں لاکھوں فوجی تعینات کر دیے جس نے اسے دنیا کے سب سے زیادہ عسکری علاقوں میں بدل دیا۔

دو ہزار انیس (2019) میں جب بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے کشمیر کی خصوصی نیم خودمختار حیثیت ختم کی تو حالات مزید بگڑے اور حملوں میں اضافہ ہوا۔ بھارت ہمیشہ پاکستان پر الزام لگاتا ہے کہ وہ باغیوں کو تربیت اور مالی مدد دیتا ہے جبکہ پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔

پہلگام حملے کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزام لگایا اور تیزی سے سفارتی تعلقات محدود کر دیے، تجارت معطل کی اور ایک اہم آبی معاہدہ بھی روک دیا۔ دو ہفتے بعد دونوں ملکوں نے فضائی جنگ بھی لڑی جس میں دونوں جانب ہلاکتیں ہوئیں۔

لیکن سات ماہ بعد بھی سینکڑوں خاندانوں کے لیے زندگی جیسے رک سی گئی ہے۔

’میں تو زندگی ختم کرنے کے بارے میں سوچتا ہوں‘

ماجد نے 2018 میں اپنی پاکستانی کزن سمینہ سے شادی کی تھی۔ 28 اپریل کو پولیس نے سمینہ کو سری نگر کے دال گیٹ تھانے بلایا اور وہاں سے انہیں حراست میں لے لیا۔ اگلے روز انہیں پاکستان روانہ کر دیا گیا۔

ماجد کہتے ہیں“جب سے وہ گئی ہے، میں بچوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔ نہ سو سکتا ہوں نہ کام کر سکتا ہوں۔ کبھی کبھی میں زندگی ختم کرنے کے بارے میں سوچتا ہوں، لیکن پھر رک جاتا ہوں کہ میرے بعد ان بچوں کا کیا ہوگا؟

بچے روزانہ اپنی ماں کو یاد کر کے روتے ہیں۔ جب بھی کوئی پولیس اہلکار نظر آئے، وہ اس سے کہتے ہیں،ہماری امی کو واپس لے آؤ۔َ

پاکستان میں سمینہ شدید تناؤ کا شکار ہیں اور بار بار اسپتال لے جانا پڑتا ہے۔ ماجد کہتے ہیں: “ان کا بلڈ پریشر قابو میں نہیں آ رہا۔”

حکومتِ بھارت کی ترجمان شازیہ علمی نے الٹا الزام لگایا کہ بہت سے پاکستانی خواتین نے ان لوگوں سے شادی کی ہوئی تھی جو ’’دہشت گردی‘‘ میں ملوث تھے لیکن وہ کوئی ثبوت پیش نہ کر سکیں۔

’پانچ سال بعد ملی… اور 12 دن بعد واپس بھیج دی گئی‘

دہلی کے شہباز کی کہانی بھی ایسی ہی ہے۔ ان کی بیوی ارم پانچ سال سے پاکستان میں پھنسی ہوئی تھیں۔ آخرکار 17 اپریل 2025 کو وہ بھارت پہنچیں  مگر 12 دن بعد 29 اپریل کو واپس بھیج دی گئیں۔

شہباز کہتے ہیں“پانچ سال کی جدوجہد، امید، اور انتظار… سب لمحے بھر میں خاک ہو گیا۔ میرا بچہ ماں سے الگ ہو گیا۔ ہمارا قصور کیا ہے؟”

’چالیس سال بعد جبری ملک بدری ‘

کشمیر کے فضل الرحمٰن کی بیوی پروینہ 1982 سے بھارت میں رہ رہی تھیں اور کبھی پاکستان واپس نہیں گئیں۔ اپریل میں انہیں بھیج دیا گیا  اب وہ کراچی کے ایک ایسے رشتہ دار کے گھر رہ رہی ہیں جو خود فالج کا مریض ہے۔

ان کی بیٹی صولیحہ کہتی ہیں“میری تعلیم رک گئی ہے۔ میں گھر سنبھالوں، والدین کی دوائی لاؤں یا ماں کے لیے پریشان رہوں؟ حکومت ہمارے ساتھ ایسا کیوں کر رہی ہے؟”

’میری گود کے بچے تک چھین لیے گئے‘

کپواڑہ کے عبداللہ* کی دو جڑواں بچے — عیان اور عاطف — ابھی 18 ماہ کے تھے۔ ایک تو ابھی دودھ پیتا تھا۔ ان کی ماں تمرہ* کو بھی 29 اپریل کو بھیج دیا گیا۔

عبداللہ نے پولیس وین کے پیچھے اپنی گاڑی 500 کلومیٹر تک چلائی، مگر انہیں بچی سے الوداعی ملاقات تک نہ دی گئی۔

“بچے بیمار رہنے لگے، بار بار بخار، الٹیاں… میں دفتر بھی نہیں جا سکا۔ میں نے ہر جگہ درخواست دی، مگر کوئی سننے والا نہیں۔”

کیونکہ وہ پاکستانی اور مسلمان ہیں

انسانی حقوق کے کارکن کہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے بے گناہ شہریوں کو سزا دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

’’عام لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے کوئی دشمنی نہیں ہوتی۔ پھر وہ سیاسی یا سفارتی تنازعات کی وجہ سے کیوں تکلیفیں برداشت کریں؟‘‘ نئی دہلی کی ایک کارکن شبنم ہاشمی نے کہا۔ ’’کسی بھی تنازع میں عام شہری کبھی بھی ہدف نہیں ہونے چاہئیں۔ ایک بچے کو اس کی ماں سے جدا کرنا ظلم، صدمہ اور کھلی حیوانیت ہے  یہ انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے کشمیری رکنِ اسمبلی وہاب پرا نے پاکستانی شہریوں کی بے دخلی کو ناانصافی اور افسوس ناک قرار دیا۔

’’جب سے کشمیر کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کیا گیا ہے، ایسے مسائل پر ہمارا اثر و رسوخ یا انہیں حل کرنے کی صلاحیت نہایت محدود ہو گئی ہے۔ ہم آواز اٹھا سکتے ہیں، مداخلت کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن مرکزی حکومت کے فیصلوں کے سامنے ہم زیادہ تر بے بس ہیں،‘‘ انہوں نے نئی دہلی میں وفاقی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے الجزیرہ کو بتایا۔

’’سرحد پار گولہ باری میں عام لوگ اپنی جانیں اور گھر کھو دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے معصوم شہری، بچے اور خواتین، بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری جغرافیائی سیاسی تنازع کا نشانہ بنتے رہتے ہیں،‘‘ پرا نے مزید کہا۔

الجزیرہ نے وزارتِ داخلہ سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

سپریم کورٹ کے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن کالن گونسالویس نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کی بے دخلی کا پہلگام حملے سے کوئی جائز تعلق نہیں۔

’’انہیں پہلگام [حملے] سے جوڑنا محض ایک بہانہ ہے — وہ بھی انتہائی ناقص … حکومت چاہے اسے پہلگام کا نتیجہ قرار دے، لیکن یہ دعویٰ نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ خطرناک بھی ہے،‘‘ انہوں نے الجزیرہ کو بتایا۔

’’انہیں صرف اس لیے بے دخل کیا گیا کیونکہ وہ پاکستانی اور مسلمان ہیں — یہ دونوں کے خلاف تعصب کی صاف جھلک ہے۔‘‘

کپواڑہ میں، عبداللہ اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھتے ہوئے گفتگو کرنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے جب وہ ان مہینوں کو یاد کرتا ہے جب اس کی بیوی تمارہ کو ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

’’بھارتی حکومت نے ہمارے ساتھ وہی کیا ہے جو پہلگام میں حملہ کرنے والوں نے کیا۔ انہوں نے بھی ہمارے خاندان اور گھر تباہ کر دیے،‘‘ اس نے کہا۔ ’’ہمارے معصوم بچوں کو کیوں سزا دی جا رہی ہے؟ انہوں نے کیا جرم کیا تھا؟‘‘

*سرکاری انتقام کے خدشے کے باعث نام تبدیل کیے گئے ہیں۔ بشکریہ الجزیرہ

Tags: بھارت بے دخلی پاکستان خاندان بکھر گئے سری نگر کشمیر مسلم اکثریتی خطہ

Post navigation

Previous: بھارتی بیٹرز کی محنت رائیگاں، جنوبی افریقا نے بڑا ہدف 6 وکٹ کے نقصان پر پورا کر لیا
Next: صائم ایوب دوبارہ نمبر ون ٹی ٹوئنٹی آل راؤنڈر بن گئے

US-Iran talks resume, Islamabad becomes global media hub
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

امریکا-ایران مذاکرات کی بازگشت، اسلام آباد عالمی میڈیا کا مرکز بن گیا

Questions on Iran war in the US, Congress demands immediate public hearing
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

امریکا میں ایران جنگ پر سوالات، کانگریس نے فوری عوامی سماعت مانگ لی

Great news from IMF Path to approval of $1.2 billion tranche for Pakistan paved
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • پاکستان

آئی ایم ایف سے بڑی خوشخبری: پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہونے کی راہ ہموار

یہ بھی پڑہیے

Tehran's command structure affected, details of the assassinations of important figures revealed
  • Editor's Pick
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

تہران کی کمانڈ اسٹرکچر متاثر، اہم شخصیات کی شہادتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

US-Iran talks resume, Islamabad becomes global media hub
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

امریکا-ایران مذاکرات کی بازگشت، اسلام آباد عالمی میڈیا کا مرکز بن گیا

Questions on Iran war in the US, Congress demands immediate public hearing
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

امریکا میں ایران جنگ پر سوالات، کانگریس نے فوری عوامی سماعت مانگ لی

PSL 11: Karachi Kings beat Quetta Gladiators by 14 runs-PSL
  • کھیل

پی ایس ایل11: کراچی کنگز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 14 رنز سے شکست دیدی

Calendar

March 2026
MTWTFSS
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031 
« Feb    

Top News

US-Iran talks resume, Islamabad becomes global media hub
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

امریکا-ایران مذاکرات کی بازگشت، اسلام آباد عالمی میڈیا کا مرکز بن گیا

Questions on Iran war in the US, Congress demands immediate public hearing
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

امریکا میں ایران جنگ پر سوالات، کانگریس نے فوری عوامی سماعت مانگ لی

Great news from IMF Path to approval of $1.2 billion tranche for Pakistan paved
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • پاکستان

آئی ایم ایف سے بڑی خوشخبری: پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہونے کی راہ ہموار

Missile and drone attack on Riyadh failed, Saudi air defense averted major threat
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

ریاض پر میزائل و ڈرون حملہ ناکام، سعودی فضائی دفاع نے بڑا خطرہ ٹال دیا

Attack on Iran's oil supply line, a strategic target for the US military or a new war swamp
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

ایران کی تیل سپلائی لائن پر وار، امریکی فوج کیلئے اسٹریٹجک ہدف یا نئی جنگی دلدل؟

Social Streams

  • Facebook
  • Instagram
  • Twitter
  • Youtube

Categories

Afghanistan Editor's Pick South Asia Ticker Top News آج کے کالمز الیکشن 2024 امریکہ انٹرنیمنٹ انڈیا بین الاقوامی دلچسپ و عجیب سائنس اور ٹیکنالوجی مشرق وسطیٰ ّExclusive پاکستان چین کاروبار کھیل
Copyright © All rights reserved. | MoreNews by AF themes.