ویتنام میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 55 ہوگئی، مزید درجنوں لاپتہ افراد کی تلاش جاری

ویتنام میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 55 ہوگئی، مزید درجنوں لاپتہ افراد کی تلاش جاری
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک ہفتے سے جاری شدید سیلاب کے بعد ہفتے کے روز بھی امدادی کارکن درجن سے زیادہ لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف رہے۔ حکام کے مطابق ویتنام میں کم از کم 55 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اکتوبر کے آخر سے جنوبی وسطی ویتنام میں مسلسل بارش ہو رہی ہے اور مقبول سیاحتی مقامات کئی بار شدید سیلاب کی زد میں آ چکے ہیں۔
اس ہفتے ساحلی شہر نھا ٹرانگ کے کئی رہائشی علاقے پانی میں ڈوب گئے، جبکہ سیاحتی مرکز دا لات کے ارد گرد اونچی پہاڑی گزرگاہوں پر مہلک لینڈ سلائیڈز بھی ہوئیں۔
ماحولیات کی وزارت نے ہفتے کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اتوار سے اب تک چھ صوبوں میں کم از کم 55 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 13 افراد کی تلاش جاری ہے۔
بیان کے مطابق پہاڑی صوبہ ڈک لک سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں دو درجن سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ریاستی میڈیا کے مطابق جمعے کے روز بھی امدادی کارکن وہاں گھٹتے ہوئے سیلابی پانی کے دوران درختوں کی چوٹیاں اور گھروں کی چھتیں پکڑے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکال رہے تھے۔
ہفتے تک کئی ہائی ویز قابلِ استعمال نہیں تھیں جبکہ 3 لاکھ افراد بجلی سے محروم رہے۔ وزارت کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے تھے۔
قومی شماریاتی ادارے کے مطابق جنوری سے اکتوبر کے درمیان قدرتی آفات کے باعث ویتنام میں 279 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے اور 2 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں جون سے ستمبر کے دوران بھاری بارش عام ہے، لیکن سائنس دانوں نے نشاندہی کی ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی شدید موسمی واقعات کو زیادہ بار بار اور تباہ کن بنا رہی ہے۔






