US Justice Department releases missing Epstein files online
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) سکایٔ نیوز کی خبر کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے بدنام زمانہ فنانسر جیفری ایپسٹین سے متعلق جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں شامل وہ دستاویزات بھی منظرِ عام پر جاری کر دی ہیں جو ابتدائی مرحلے میں عوام کے سامنے نہیں آسکی تھیں۔ ان ریکارڈز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے بعض الزامات کا ذکر بھی موجود ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے انہیں سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
محکمہ انصاف کے مطابق ابتدائی ریلیز کے دوران کچھ فائلیں غلطی سے ڈیٹا شیٹ میں ڈپلیکیٹ قرار دے دی گئی تھیں جس کے باعث وہ عوامی دسترس میں نہیں آئیں۔ بعد ازاں اس غلطی کی نشاندہی ہونے پر انہیں درست کرتے ہوئے متعلقہ دستاویزات بھی آن لائن جاری کر دی گئیں۔
جاری شدہ ریکارڈ میں ایف بی آئی کے تین انٹرویوز کے خلاصے اور نوٹس شامل ہیں جو 2019 میں ایک خاتون سے کیے گئے تھے۔ جن میں اس کے بقول ڈونلڈ ٹرمپ کا نام بھی لیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق ایف بی آئی نے اس خاتون سے 24 جولائی، 7 اگست، 20 اگست اور 16 اکتوبر 2019 کو مختلف مواقع پر انٹرویوز کیے۔ ابتدائی طور پر جاری ہونے والی فائلوں میں صرف 24 جولائی کے انٹرویو کا خلاصہ شامل تھا، جبکہ باقی تین انٹرویوز کے نوٹس اب جاری کیے گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد اور ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان الزامات کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں۔
امریکی حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ ایپسٹین فائلز میں بعض ایسے دعوے شامل ہو سکتے ہیں جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، کیونکہ یہ مواد عوام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر بھی مشتمل ہے۔



