US commission's harsh report recommends putting India on special list
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) بی بی سی اردو کی خبر کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی تازہ رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ رپورٹ میں امریکی حکومت کو سفارش کی گئی ہے کہ بھارت کو اُن ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے جہاں مذہبی آزادی کے حوالے سے خصوصی تشویش پائی جاتی ہے۔
رپورٹ میں بعض اہم بھارتی اداروں اور تنظیموں، خصوصاً راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس وِنگ (را)، پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق ان سفارشات کی صورت میں متعلقہ افراد کے امریکہ میں اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں اور ان کے داخلے پر پابندی لگ سکتی ہے۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلم اور مسیحی برادریوں، کے خلاف امتیازی قوانین اور اقدامات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے ایف سی آر اے، یو اے پی اے، سی اے اے اور این آر سی جیسے قوانین کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جنہیں رپورٹ کے مطابق اقلیتوں پر اثرانداز ہونے والے اقدامات قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مختلف ریاستوں میں تبدیلی مذہب کے قوانین کو سخت کرنے، گائے کے تحفظ کے نام پر ہجوم کے تشدد میں اضافے اور مہاراشٹر، اوڈیشا اور اتر پردیش میں فرقہ وارانہ واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں بعض سخت گیر ہندو تنظیموں کے کردار کی نشاندہی کی گئی ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں پیش کیے گئے نکات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔





