Trump's open threat, Iran's strong response: 'Ready for war'
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران میں معاشی بحران کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے پاس “انتہائی مضبوط آپشنز” موجود ہیں، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جواب میں کہا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کو آزمانے کی کوشش کی تو تہران جنگ کے لیے تیار ہے، تاہم ایران دھمکیوں سے پاک ماحول میں مذاکرات کا حامی ہے۔
احتجاج کا آغاز دسمبر 2025 کے اواخر میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف ہوا تھا، جو اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل چکا ہے۔ اپوزیشن حلقوں کے مطابق مظاہروں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں 100 سے زائد سیکیورٹی اہلکار جان سے گئے۔ ان اعداد و شمار کی آزاد تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
صورتحال کے پیش نظر ایرانی حکام نے ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کر دیا، جو 100 گھنٹے سے زائد عرصے تک معطل رہا۔ عالمی مانیٹر نیٹ بلاکس کے مطابق قومی سطح پر انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی معمول کے ایک فیصد سے بھی کم ہو گئی ہے۔ بعض علاقوں میں مختصر وقت کے لیے بین الاقوامی کالز بحال ہوئیں، تاہم ٹیکسٹ میسجنگ اور بیرونی انٹرنیٹ رسائی بدستور بند ہے۔
امریکا نے ایران میں موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ احتجاج پرتشدد رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ امریکی حکام نے شہریوں کو ترکی یا آرمینیا کے راستے زمینی سفر پر غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کو امریکا کے ساتھ کاروبار میں 25 فیصد اضافی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا، جس پر چین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔
علاقائی سطح پر ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا ہے، جس میں جاری صورتحال اور خطے میں کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ پاکستان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مسترد کیا ہے جن میں پاکستان کو ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی کے لیے استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔





