
دبئی ایئر شو میں تیجس کا تباہ کُن حادثہ: بھارت کی برآمدی امیدوں پر کاری ضرب
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دبئی ایئرشو میں عالمی اسلحہ خریداروں کے سامنے بھارت کے تیجس لڑاکا طیارے کا حادثہ ملکی دفاعی ٹیکنالوجی کی اس ’قومی علامت‘ کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے۔ اس حادثے کے بعد اب تیجس طیارہ برآمدات کے بجائے زیادہ تر بھارتی عسکری آرڈرز پر منحصر نظر آتا ہے۔
ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق جمعے کو پیش آنے والے حادثے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی لیکن یہ ایک ایسے ایونٹ میں ہوا جہاں بھارت کے حریف پاکستان سمیت خطے کے ممالک سفارتی و عسکری اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے سرگرم تھے۔ یہ شو اُن واقعات کے چھ ماہ بعد ہو رہا تھا جب دونوں ممالک نے دہائیوں کی سب سے بڑی فضائی جھڑپ میں حصہ لیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدر بڑے عالمی شو میں ہونے والا حادثہ، جس میں ونگ کمانڈر نمانش سیال جان کی بازی ہار گئے، تیجس کی برآمدی کوششوں پر منفی اثر ڈالے گاحالانکہ طیارے کی 40 سالہ مشکل ترقیاتی تاریخ ہے۔
دبئی میں نمائشی پرواز کے دوران حادثہ
تصاویر بہت سخت ہیں، امریکہ میں مچل انسٹیٹیوٹ فار ایروسپیس اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈگلس اے برکی نے کہا۔ایئر شوز میں حادثات ایک بڑے قومی پروجیکٹ کی ناکامی کا تاثر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ تیجس کو منفی تشہیر کا سامنا ہوگا، لیکن امکان ہے کہ یہ پروگرام دوبارہ رفتار پکڑ لے گا۔
دبئی دنیا کا تیسرا بڑا ایئر شو ہے اور ایسے واقعات اب نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
انیس سو ننانوے میں روسی سخوئی ایس یو-30 پیرس ایئرشو میں گر کر تباہ ہو گیا تھا، اور اس سے ایک دہائی قبل سوویت ایم آئی جی-29 بھی اسی شو میں کریش ہوا تھا۔ دونوں واقعات میں پائلٹ محفوظ رہے تھے اور بعد میں بھارت نے دونوں طیاروں کے آرڈر بھی دیے۔
برکی نے کہا ہے کہ فائٹر طیاروں کی فروخت زیادہ تر بڑی سیاسی ضرورتوں سے چلتی ہے، ایک حادثے سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔
جی ای انجنز سے چلنے والا طیارہ
تیجس پروگرام انیس سو اسی کی دہائی میں اُس وقت شروع ہوا جب بھارت پرانے سوویت ایم آئی جی-21 کی جگہ نیا ملکی طیارہ بنانا چاہتا تھا۔ ایم آئی جی-21 کا آخری اسکواڈرن صرف چند ماہ پہلے ریٹائر ہوا ہے کیونکہ ایچ اے ایل کی جانب سے تیجس کی ترسیل میں سست روی تھی۔
ملکی سطح پر 180 تیجس Mk-1A طیاروں کا آرڈر موجود ہے لیکن GE ایرو اسپیس کے انجن سپلائی چین مسائل کی وجہ سے ابھی تک ترسیل شروع نہیں ہو سکی۔
ایچ اے ایل کے ایک سابق سینئر اہلکار نے بتایا کہ “دبئی حادثہ کم از کم کچھ وقت کے لیے برآمدات کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔تیجس کے ممکنہ خریداروں میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ شامل تھے، اور ایچ اے ایل نے 2023 میں ملائیشیا میں دفتر بھی کھولا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ “اب آنے والے سالوں میں توجہ ملکی ضرورت پوری کرنے پر ہوگی۔
دریں اثناء بھارتی فضائیہ اپنے سکواڈرنز کی کم ہوتی تعداد پر پریشان ہے جو منظور شدہ 42 کے مقابلے میں کم ہو کر 29 رہ گئی ہے کیونکہ ایم آئی جی-29، جیگوار اور میراث 2000 جلد ریٹائر ہونے والے ہیں۔ایک ائیر فورس اہلکار نے کہا،تیجس ان کی جگہ لینے والا تھا، لیکن پیداواری مسائل آڑے آ رہے ہیں۔
متبادل کے طور پر تیار شدہ فائٹر خریدنے کا امکان
بھارت فوری کمی پوری کرنے کے لیے تیار شدہ طیارے خریدنے پر غور کر رہا ہے، جن میں مزید فرانسیسی رافال بھی شامل ہیں۔
ساتھ ہی بھارت تقریباً 40 سروس میں موجود تیجس میں مزید اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
بھارت امریکی F-35 اور روسی Su-57 جیسے پانچویں نسل کے فائٹرز پر بھی غور کر رہا ہے—جو اس ہفتے دبئی میں ایک ہی شو میں شاذونادر ہی اکٹھے دیکھے گئے۔
’بیس‘ یعنی مستقبل کے پروگراموں کی بنیاد
بھارت طویل عرصے سے دنیا کے بڑے اسلحہ خریداروں میں شامل رہا ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی 2023 میں تیجس پر تاریخی پرواز کے بعد اس طیارے کو خود انحصاری کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ لندن کے تجزیہ کار والٹر لیڈوِگ کے مطابق،
تیجس کی اصل اہمیت اس کے ذریعے بھارت کے دفاعی صنعت کے لیے تیار ہونے والی ٹیکنالوجی اور تجرباتی بنیاد میں ہے—نہ کہ بیرونی فروخت میں۔
انہوں نے کہا کہ 1998 کے نیوکلیئر ٹیسٹ کے بعد پابندیوں اور مقامی انجن سازی میں مشکلات نے پروگرام کو لمبا کر دیا۔
علاقائی مقابلہ
دبئی ایئرشو میں بھارت اور پاکستان دونوں بھرپور نمائندگی کے ساتھ شریک ہوئے۔پاکستان نے اعلان کیا کہ ایک “دوست ملک” نے جے ایف-17 تھنڈر بلاک تھری کی خریداری کے لیے ابتدائی معاہدہ کر لیا ہے۔
جے ایف-17 کے ساتھ PL-15E میزائل بھی نمائش میں پیش کیے گئے یہ وہی میزائل فیملی ہے جسے امریکی اور بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے مئی کی فضائی لڑائی میں کم از کم ایک بھارتی رافال کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا تھا۔
پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس (پی اے سی) نے جے ایف-17 کو “جنگی تجربہ رکھنے والا” طیارہ قرار دے کر بروشرز تقسیم کیے۔
اس کے مقابلے میں بھارت تیجس کے استعمال میں بہت محتاط رہا ہے۔
بھارتی حکام کے مطابق تیجس کو مئی کی چار روزہ جھڑپ میں عملی طور پر استعمال نہیں کیا گیا—اور اس سال 26 جنوری کے یومِ جمہوریہ فلائی پاسٹ میں بھی اسے “سنگل انجن طیارے” کی حفاظت کے خدشات کے باعث شامل نہیں کیا گیا۔






