Tehran's command structure affected, details of the assassinations of important figures revealed
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) جیو نیوز خبر کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حالیہ حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ایران کی کئی اعلیٰ سیاسی اور عسکری شخصیات کی ہلاکت نے ملک کے طاقتور کمانڈ اسٹرکچر کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
سرکاری اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو اپنے کمپاؤنڈ پر ہونے والے فضائی حملے میں شہید ہوۓ۔
دیگر اہم شخصیات میں سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے کلیدی کردار علی لاریجانی شامل ہیں، جو 17 مارچ کو پردیس کے علاقے میں ایک حملے میں اپنے بیٹے اور قریبی ساتھی کے ساتھ شہید ہوئے۔ اسی طرح ایران کے انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب کو 18 مارچ کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ سپریم لیڈر کے قریبی مشیر علی شمخانی بھی 28 فروری کے حملوں میں شہید کیے گئے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور 28 فروری کے حملوں میں شہید ہوئے، جبکہ وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ بھی اسی کارروائی میں شہید ہوئے۔ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ عبدالرحیم موسوی کو بھی اسی دن ایک اہم اجلاس کے دوران نشانہ بنایا گیا۔
مزید برآں، بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی 17 مارچ کو شہید ہوئے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی نیول انٹیلی جنس کے سربراہ بہنام رضائی 26 مارچ کو بندر عباس میں ایک حملے میں شہید کیا گیا




