
تائیوان نے چین کے مقابلے کے لیے 40 ارب ڈالر کے اضافی دفاعی اخراجات کا منصوبہ پیش کر دیا
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) تائیوان اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور چین کی بڑھتی ہوئی دھمکی کا مقابلہ کرنے کے لیے 40 ارب ڈالر کا اضافی دفاعی بجٹ متعارف کرائے گا، صدر لائی چنگ-تے نے بدھ کے روز اعلان کیا۔
ایک اعشاریہ پچیس ٹریلین ڈالر (39.89 ارب ڈالر) کے اس پیکج کا اعلان کرتے ہوئے لائی نے کہا کہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جارحیت کے سامنے سمجھوتا کرنے کی کوشش کا نتیجہ ہمیشہ “غلامی” کی صورت میں نکلتا ہے۔
انہوں نے صدارتی دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران کہا قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ قومی خودمختاری اور آزادی و جمہوریت کی بنیادی اقدار ہی اس ملک کی بنیاد ہیں۔
لائی جنہوں نے منگل کو واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون میں اس نئے بجٹ کا اعلان کیا تھا،انہوں نے کہا کہ تائیوان اپنی دفاعی عزم دنیا کے سامنے رکھ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف کوئی نظریاتی جنگ یا “آزادی بمقابلہ اتحاد” کا تنازعہ نہیں، بلکہجمہوری تائیوان کے دفاع اور ‘چین کا تائیوان’ بننے سے انکار کی جدوجہد ہے۔
چین جو جمہوری طور پر چلنے والے تائیوان کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے، گزشتہ پانچ برسوں میں اپنی فوجی اور سیاسی دباؤ میں اضافہ کر چکا ہے جسے تائی پے سختی سے مسترد کرتا ہے۔ بیجنگ میں بات کرتے ہوئے چین کے تائیوان افیئرز آفس کے ترجمان نے کہا کہ تائیوان اپنے فیصلوں پر “باہر کی قوتوں” کو اثرانداز ہونے دے رہا ہے۔
ترجمان پینگ چن گین نے کہا وہ ایسے فنڈز ضائع کر رہے ہیں جو عوام کی فلاح و ترقی پر خرچ ہونے چاہئیں، اور انہیں ہتھیاروں کی خریداری اور بیرونی طاقتوں کو خوش کرنے پر لگا رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ صرف تباہی ہوگا۔
واشنگٹن کی جانب سے یورپ کی طرح تائیوان پر بھی اپنے دفاعی بجٹ میں اضافے کے مطالبے بڑھ رہے ہیں۔ لائی نے اگست میں کہا تھا کہ وہ 2030 تک دفاعی اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار کے 5 فیصد تک بڑھانے کی امید رکھتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں دفاعی اخراجات نوسو انچاس اعشاریہ پانچ ٹریلین ڈالر ارب (30.3 ارب ڈالر) ہوں گے جو جی ڈی پی کا 3.32 فیصد ہوں گے ۔ 2009 کے بعد پہلی بار 3 فیصد سے اوپر۔
لائی نے پہلے بھی اضافی دفاعی بجٹ کی طرف اشارہ کیا تھا لیکن تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں۔امریکا اگرچہ اس کے تائیوان کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں لیکن قانون کے تحت اسے تائیوان کو اپنے دفاع کے وسائل فراہم کرنے کی پابندی ہے۔
مگر جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے واشنگٹن نے تائیوان کے لیے صرف ایک نئی اسلحہ ڈیل کی منظوری دی ہے 330 ملین ڈالر کا پیکج جس میں لڑاکا طیاروں اور دیگر جہازوں کے پرزے شامل ہیں، جس کا اعلان اسی ماہ کیا گیا۔
واشنگٹن پوسٹ میں لائی نے لکھاآج بین الاقوامی برادری زیادہ محفوظ ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے طاقت کے ذریعے امن کی پالیسی اپنائی ہے۔






