Somalia's major defense move Progress from Pakistan to purchase 24 JF-17 Thunder aircraft
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) صومالیہ ٹوڈے نے رپورٹ کیا ہے کہ صومالیہ نے پاکستان سے 24 تک جدید جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری لڑاکا طیارے حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کو حتمی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ صومالی ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدہ تقریباً 90 کروڑ ڈالر مالیت کے کثیر جہتی دفاعی پیکج کا حصہ ہے، جس میں طیاروں کے ساتھ تربیت، اسلحہ انضمام، طویل مدتی دیکھ بھال اور لاجسٹک تعاون بھی شامل ہوگا۔ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ 1991 کے بعد صومالیہ کی سب سے بڑی دفاعی خریداری تصور کی جائے گی۔
جے ایف 17 تھنڈر پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور چین کی کمپنی اے وی آئی سی چینگڈو کا مشترکہ منصوبہ ہے، جسے کم لاگت مگر مؤثر کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ سمجھا جاتا ہے۔ بلاک تھری ماڈل میں جدید فعال الیکٹرانک اسکین شدہ سرے ریڈار، اپ گریڈ سینسرز اور درست ہدفی حملے کی صلاحیت شامل ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس طیارے کی رفتار میک 1.6 تک ہے اور اس کا عملی دائرہ کار 1350 کلومیٹر سے زائد بتایا جاتا ہے، جو صومالیہ کے وسیع رقبے اور طویل ساحلی پٹی کے لیے موزوں سمجھا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دسمبر 2023 کی اس قرارداد کے بعد سامنے آئی جس کے تحت صومالی وفاقی حکومت پر عائد تین دہائیوں پرانی اسلحہ پابندی ختم کی گئی۔ اس فیصلے نے موغادیشو کو جدید دفاعی سازوسامان درآمد کرنے کی قانونی راہ فراہم کی اور عسکری ڈھانچے کی ازسرنو تعمیر کی کوششوں کو تیز کیا۔
سرد جنگ کے زمانے میں صومالیہ کے پاس میگ 21 اور ہاکر ہنٹر جیسے طیارے موجود تھے، مگر 1991 کے بعد خانہ جنگی نے فضائیہ کا ڈھانچہ تقریباً ختم کر دیا۔ موجودہ دور میں الشباب کے خلاف کارروائیوں کے لیے صومالی حکومت کو امریکہ اور ترکی سمیت غیر ملکی شراکت داروں کی فضائی معاونت پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
علاقائی سطح پر ترکی اور سعودی عرب کو صومالیہ کی دفاعی اصلاحات میں ممکنہ مالی اور تکنیکی معاون سمجھا جا رہا ہے۔ فروری 2026 میں ریاض میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور صومالی وزیر دفاع احمد معلم فقی کے درمیان عسکری تعاون کے معاہدے پر دستخط بھی کیے گئے، جس میں تربیت اور دفاعی معاونت شامل ہے۔ ترکی پہلے ہی موغادیشو میں اپنا بڑا فوجی تربیتی مرکز چلا رہا ہے۔




