Should Israel take over the entire Middle East US ambassador's statement causes stir in diplomatic circles
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی کے ایک حالیہ انٹرویو نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے ایک مذہبی حوالہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل بائبلی متن میں بیان کردہ وسیع علاقے پر کنٹرول حاصل کر لے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ یہ بیان سرکاری حکمتِ عملی نہیں بلکہ مذہبی گفتگو کے تناظر میں دیا گیا تھا۔
یہ گفتگو پروگرام ٹکر کارلسن شو میں ہوئی جس کی میزبانی معروف مبصر ٹکر کارلسن نے کی۔ دورانِ پروگرام کتابِ پیدائش کا حوالہ پڑھا گیا جس میں دریائے نیل سے دریائے فرات تک زمین کا ذکر آتا ہے۔ میزبان نے سوال اٹھایا کہ اگر اس متن کو لفظی طور پر لیا جائے تو کیا اسرائیل کو اس پورے خطے پر حق حاصل ہے، جو موجودہ سرحدوں سے کہیں زیادہ وسیع بنتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں سفیر نے کہا، اگر وہ سب لے لیں تو ٹھیک ہوگا۔ تاہم اسی نشست میں انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیل ہمسایہ ممالک پر قبضہ نہیں چاہتا اور نہ ہی سرحدی توسیع اس کی پالیسی ہے۔ ان کے الفاظ میں، وہ لینا نہیں چاہتے، وہ اس پر قبضہ کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ بعد میں انہوں نے اپنے ابتدائی بیان کو کسی حد تک مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے سرکاری مؤقف کے طور پر نہ دیکھا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کی ترجیح اپنی موجودہ سرزمین کا دفاع اور شہریوں کی سلامتی ہے، نہ کہ مذہبی دعووں کی بنیاد پر جغرافیائی نقشہ تبدیل کرنا۔ ان کے مطابق یہ گفتگو محض مذہبی متن کی تشریح کے حوالے سے تھی۔
مائیک ہکابی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2025 میں اسرائیل میں امریکہ کا سفیر مقرر کیا تھا۔ وہ اس سے قبل ریاست آرکنساس کے گورنر رہ چکے ہیں اور طویل عرصے سے اسرائیل کے حق میں مذہبی و سیاسی دلائل دیتے رہے ہیں۔
انٹرویو کے اقتباسات سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تیزی سے پھیلنے کے بعد مختلف عالمی ذرائع ابلاغ نے اس پر توجہ دی، جس سے مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے میں سفارتی بحث میں شدت آگئی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس نوعیت کے بیانات فوری ردعمل کو جنم دے سکتے ہیں، تاہم سفیر کی وضاحت نے معاملے کو مذہبی تناظر تک محدود رکھنے کی کوشش کی ہے۔




