Skip to content

اردو انٹرنیشنل

ڈیجیٹل دنیا میں اردو کی نمائندگی، ایشیا اور جنوبی ایشیا سے آپ تک

Primary Menu
  • صفحۂ اول
  • سیاست
  • پاکستان
  • چین
  • ایشیا
  • کالم کار
  • جنتا کی آواز
  • کاروبار
  • کھیل
  • محاذ
  • پاکستان

ترقیاتی اخراجات میں کمی کے باوجود ارکان پارلیمان کو صوابدیدی فنڈ کا اجرا

1 minute read
ترقیاتی اخراجات

ترقیاتی اخراجات میں کمی کے باوجود ارکان پارلیمان کو صوابدیدی اسکیموں کیلئے فنڈز کا اجرا

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) موجودہ مالی سال کے پہلے 8 مہینوں میں ترقیاتی اخراجات میں مسلسل کمی کے باوجود یکے بعد دیگر حکومتیں ارکان پارلیمان کی صوابدیدی اسکیموں کے لیے فنڈز دیتی رہیں۔

رپورٹ کے مطابق پلاننگ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ترقیاتی اخراجات کے تازہ ترین اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 8 ماہ میں اراکین پارلیمان نے اپنی ترقیاتی اسکیموں کے لیے بجٹ میں مختص کیے گئے 90 ارب روپے میں سے 38 ارب روپے استعمال کر لیے۔

جبکہ مالی سال کے پہلے 8 ماہ (جولائی تا فروری) کے دوران دیگر تمام 34 وفاقی وزارتوں کے تحت کی جانے والی ترقیاتی سرگرمیاں محض 107 ارب روپے کے مشترکہ اخراجات کے ساتھ مشکلات کا شکار رہیں۔

پورے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت 8 ماہ کے دوران کل اخراجات 237 ارب روپے رہے جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے 250.3 ارب روپے سے 13 ارب روپے کم تھے۔

اس میں کارپوریشنز، خصوصی علاقوں جیسے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور سابقہ ​​وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے ضم شدہ اضلاع پر اخراجات بھی شامل ہیں۔

خصوصی علاقوں بشمول آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور انضمام شدہ قبائلی اضلاع نے 8 ماہ میں 46.6 ارب روپے کے ساتھ سب سے زیادہ فنڈنگ ​​حاصل کی، اس کے بعد پارلیمنٹرینز اسکیم نے 37.98 ارب روپے حاصل کیے ہیں۔

خصوصی علاقوں کے لیے فنڈز ان کے بجٹ میں مختص کیے گئے 170 ارب روپے کا تقریباً 27.4 فیصد حصہ تھے، دریں اثنا ارکان پارلیمان کی اسکیموں کو پہلے ہی ان کے مختص کردہ 90 ارب روپے میں سے 42.22 فیصد فنڈز مل چکے ہیں۔

اکتوبر 2022 میں اس وقت کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ حکومت نے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز اچیومنٹ پروگرام (ایس اے پی) کہلانی والی اسکیموں کے لیے مختص رقم کو اس بات کو یقینی بناتے ہوئے بڑھا کر 87 ارب کردیا تھا کہ اتحاد میں شامل اس وقت کے 174 اراکین قومی اسمبلی کو چھوٹے منصوبوں جیسے سیوریج لائنیز، گیس، پانی اور بجلی کے کنکشن، اور اپنے حلقوں میں گلیوں کی مرمت کے لیے 50 کروڑ روپے ملیں۔

اسی حکومت نے بعد میں رواں مالی سال کے لیے فنڈز میں 3 ارب روپے کا اضافہ کرکے اسے 90 ارب روپے کر دیا اور اگست 2023 کے دوسرے ہفتے میں دفتر چھوڑنے سے قبل 61 ارب روپے جاری کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

جبکہ 31 اگست تک صرف 14.4 ارب روپے استعمال ہوئے تھے، یہ رقم 30 ستمبر کو پہلی سہ ماہی کے اختتام تک 22.9 ارب روپے تک پہنچ گئی اور دسمبر کے آخر تک 35 ارب روپے سے تجاوز کر گئی، جو کہ سالانہ مختص کا 39 فیصد ہے۔

جنوری 2024 میں، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) اور قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز اچیومنٹ پروگرام (ایس اے پی) فنڈز کو 61 ارب روپے تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا اور بقیہ 30 ارب روپے کو خسارے کی فنانسنگ کے لیے بچالیا۔

پلاننگ ڈویژن کے اعلان کردہ تقسیم کے طریقہ کار کے تحت وفاقی بجٹ میں مختص ترقیاتی فنڈز پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں 20 فیصد کی شرح سے جاری کیے جانے چاہیے، اس کے بعد دوسری (اکتوبر تا دسمبر) اور تیسری سہ ماہی (جنوری-مارچ) میں 30 فیصد کی شرح سے جاری کیے جانے چاہیے۔

جبکہ بقیہ 20 فیصد مالی سال کی آخری سہ ماہی (اپریل-جون) میں جاری کیا جاتا ہے۔

اس اصول کے تحت اب تک خصوصی علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے کم از کم 70 فیصد یا 120 ارب روپے جاری کیے جانے چاہیے تھے۔

لیکن اصل کھپت صرف 46.6 ارب روپے رہی ہے۔

اسی طرح 940 ارب روپے میں سے 658 ارب روپے پی ایس ڈی پی کے منصوبوں بشمول ڈیموں، سڑکوں اور صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں کے لیے فنڈز پر خرچ کیے جانے چاہیے تھے لیکن مجموعی اخراجات 237 ارب روپے تھا، جو کہ مالی سال کے 8 ماہ کے اختتام تک تخمینہ شدہ کھپت سے تقریباً 421 ارب روپے کم تھے۔

خصوصی علاقوں اور ارکان پارلیمان کی ترقیاتی اسکیموں کو چھوڑ کر انفراسٹرکچر اور ترقی پر صرف 152 ارب روپے خرچ ہوئے۔

سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایس اے پی کو چھوڑ کر، 8 ماہ میں 3 درجن وزارتوں اور ڈویژنوں کے ترقیاتی اخراجات سالانہ مختص کردہ 563 ارب کے مقابلے میں صرف 154 ارب روپے تھے۔

پانی کے شعبے میں سالانہ مختص کیے 110.5 ارب روپے کے مقابلے میں 30.5 ارب روپے خرچ کیے گئے۔

اسی طرح، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور پاور کمپنیوں نے اپنے 212 ارب روپے کے کل مختص کے مقابلے میں 44.7 ارب روپے خرچ کیے، حالانکہ ان دونوں شعبوں میں خاطر خواہ زرمبادلہ موصول ہوا تھا۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن اپنے 60 ارب روپے کی مختص رقم میں سے صرف 14.5 ارب روپے یا 24 فیصد استعمال کر سکا، جب کہ وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے 8 ارب روپے یا 41 ارب روپے کی مختص رقم کا تقریباً 20 فیصد خرچ کیا۔

ریلوے نے 33 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 18.8 ارب روپے خرچ کیے۔

اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے جنوری 2024 تک 508 ارب روپے جاری کرنے کی اجازت دی تھی، جبکہ فروری میں کوئی اضافی رقم جاری نہیں کی گئی۔

اس میں 36 وزارتوں اور ڈویژنوں کے لیے 372 ارب روپے (بشمول ارکان پارلیمان کی اسکیموں کے لیے 61.3 ارب روپے) اور این ایچ اے اور پاور کمپنیوں کے لیے 127 ارب روپے شامل ہیں۔

یہ لگاتار تیسرا سال ہو گا جب ملک کی کم مالی اعانت سے چلنے والے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پارلیمان کے مختص کردہ فنڈز میں بھی زبردست کٹوتیوں کی وجہ سے محدود رہے گی۔

پچھلے سال بڑے سیلاب سے ترقیاتی پروگرام متاثر ہوا تھا، اس کے نتیجے میں ترقیاتی منصوبوں کو ناکافی فنڈنگ ​​کے سنگین منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا، اس طرح پہلے سے ہی ریکارڈ مہنگائی کا شکار لوگوں کی معیار زندگی متاثر ہوگی۔

Tags: ارکان پارلیمان پلاننگ کمیشن ترقیاتی اخراجات ترقیاتی سرگرمیاں

Post navigation

Previous: آئی پی ایل 2024: روہت شرما نے صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد ناپسندیدہ ریکارڈبرابر کر دیا
Next: پاکستان کی شام میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی میزائل حملے کی مذمت

Mark Haq has given new recognition to Pakistan's strength and prestige in the world Ishaq Dar
  • Top News
  • انڈیا
  • بین الاقوامی
  • پاکستان

مارکۂ حق نے دنیا میں پاکستان کی طاقت اور وقار کو نئی پہچان دی: اسحاق ڈار

Trump's sudden U-turn, Project Freedom halted over Gulf opposition
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

ٹرمپ کا اچانک یوٹرن، خلیجی مخالفت پر پروجیکٹ فریڈم روک دیا گیا

Pakistan's stance prevails, the world rejects Indian narrative
  • بین الاقوامی
  • پاکستان

پاکستان کا مؤقف غالب، دنیا نے بھارتی بیانیہ مسترد کر دیا

یہ بھی پڑہیے

Tensions rise again in the Strait of Hormuz, Trump makes a big statement after the attack on American warships
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

آبنائے ہرمز میں پھر کشیدگی، امریکی جنگی جہازوں پر حملے کے بعد ٹرمپ کا بڑا بیان

Votes divided in the name of religion in India, BJP and Congress face off
  • Top News
  • بلاگ
  • بین الاقوامی

بھارت میں ووٹ مذہب کے نام پر تقسیم، بی جے پی اور کانگریس آمنے سامنے

PCB Chairman Mohsin Naqvi arrives in Dhaka-X
  • کھیل

چیئر مین پی سی بی محسن نقوی ڈھاکہ پہنچ گئے

Babar Azam injured, out of first Test match against Bangladesh-PCB
  • کھیل

بابر اعظم زخمی، بنگلہ دیش کیخلاف پہلے ٹیسٹ میچ سے باہر

Calendar

May 2026
MTWTFSS
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
« Apr    

Top News

Tensions rise again in the Strait of Hormuz, Trump makes a big statement after the attack on American warships
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

آبنائے ہرمز میں پھر کشیدگی، امریکی جنگی جہازوں پر حملے کے بعد ٹرمپ کا بڑا بیان

Votes divided in the name of religion in India, BJP and Congress face off
  • Top News
  • بلاگ
  • بین الاقوامی

بھارت میں ووٹ مذہب کے نام پر تقسیم، بی جے پی اور کانگریس آمنے سامنے

Mark Haq has given new recognition to Pakistan's strength and prestige in the world Ishaq Dar
  • Top News
  • انڈیا
  • بین الاقوامی
  • پاکستان

مارکۂ حق نے دنیا میں پاکستان کی طاقت اور وقار کو نئی پہچان دی: اسحاق ڈار

Iran-US tensions, alarm bells for Dubai's economy and tourism
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • مشرق وسطیٰ

ایران-امریکہ کشیدگی، دبئی کی معیشت اور سیاحت کیلئے خطرے کی گھنٹی

Trump's sudden U-turn, Project Freedom halted over Gulf opposition
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

ٹرمپ کا اچانک یوٹرن، خلیجی مخالفت پر پروجیکٹ فریڈم روک دیا گیا

Social Streams

  • Facebook
  • Instagram
  • Twitter
  • Youtube

Categories

Afghanistan Editor's Pick South Asia Ticker Top News آج کے کالمز الیکشن 2024 امریکہ انٹرنیمنٹ انڈیا بلاگ بین الاقوامی دلچسپ و عجیب سائنس اور ٹیکنالوجی مشرق وسطیٰ ّExclusive پاکستان چین کاروبار کھیل
Copyright © All rights reserved. | MoreNews by AF themes.