
خیبر پختونخواہ: بنوں میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائی میں 22 دہشت گرد ہلاک: آئی ایس پی آر
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کے مطابق انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے منگل کو بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں کی گئی ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران بھارت کی سرپرستی میں سرگرم 22 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق یہ کارروائی پیر کے روز اس بنیاد پر کی گئی کہ علاقے میں بھارتی پراکسی فتنے الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع تھی۔
فتنہ الخوارج‘ وہ اصطلاح ہے جو ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کا مؤثر طریقے سے نشانہ لیا، اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 22 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے میں سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی دیگر دہشت گرد کو تلاش کر کے ختم کیا جا سکے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشت گردی مہم پوری رفتار کے ساتھ جاری رہے گی تاکہ ملک سے غیرملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت دہشت گردی کے خلاف بڑے نتائج حاصل کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم ملک سے ہر طرح کی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے پُرعزم ہیں
نومبر 2022 میں ٹی ٹی پی کی جانب سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کے بعد سے پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھ رہا ہے۔






