Iran is willing to negotiate, preparations for the meeting are underway: Trump
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی قیادت نے حالیہ دنوں میں رابطہ کر کے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان ایک ممکنہ ملاقات طے کرنے کی تیاری جاری ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو امریکا کسی بھی ملاقات سے پہلے کارروائی کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے۔
اتوار کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، “ایران کے رہنماؤں نے فون کیا ہے، وہ مذاکرات چاہتے ہیں اور ایک ملاقات ترتیب دی جا رہی ہے۔” تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ “ہمیں ملاقات سے پہلے بھی قدم اٹھانا پڑ سکتا ہے۔”
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران شدید ترین حکومت مخالف احتجاجی لہر کی زد میں ہے۔ یہ مظاہرے 28 دسمبر کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو جلد ہی حکومتی پالیسیوں اور قیادت کے خلاف عوامی غصے میں تبدیل ہو گئے۔ ایران نے اب تک مظاہروں میں ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے، جبکہ انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے بتائی گئی تعداد کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
اے ایف پی کے مطابق تہران میں حالات غیر معمولی حد تک مفلوج دکھائی دیتے ہیں۔ گوشت کی قیمتیں احتجاج کے آغاز کے بعد تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں، بیشتر دکانیں بند ہیں اور جو کھلی بھی ہیں وہ شام چار یا پانچ بجے سکیورٹی فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے باعث بند ہو جاتی ہیں۔ اتوار کے روز سوشل میڈیا پر احتجاجی ویڈیوز کی تعداد کم رہی، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ انٹرنیٹ بندش ہے یا مظاہروں میں کمی۔
ریاستی میڈیا نے جلتی عمارتوں، ایک مسجد اور سکیورٹی اہلکاروں کی نمازِ جنازہ کی تصاویر نشر کیں، جبکہ تین دن کے بڑے احتجاج کے بعد سرکاری ذرائع نے حالات معمول پر آنے کا تاثر دینے کی کوشش کی۔ تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ “احتجاج کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔” حکومت نے سکیورٹی اہلکاروں سمیت ہلاک ہونے والوں کے لیے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیاں نے پیر کے روز “قومی مزاحمتی مارچ” کی اپیل کرتے ہوئے عوام سے تشدد کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب، امریکی مداخلت کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر امریکا نے کارروائی کی تو امریکی فوجی اڈے اور بحری جہاز “جائز اہداف” ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک سے ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی پر بات کریں گے، جہاں گزشتہ چار دن سے سروسز معطل ہیں۔ ان کے مطابق، اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک اس ضمن میں کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم مسک یا اسپیس ایکس کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دریں اثنا، ایران کے معزول شاہ کے صاحبزادے رضا پہلوی نے سکیورٹی فورسز اور سرکاری ملازمین سے عوام کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کے اہلکاروں کے پاس یہ انتخاب ہے کہ وہ “عوام کے ساتھ کھڑے ہوں یا عوام کے قاتلوں کے ساتھ۔” لندن میں مظاہرین نے ایرانی سفارت خانے پر اسلامی جمہوریہ کا پرچم اتار کر شاہ دور کا قومی پرچم لہرا دیا، جس پر ایران نے برطانوی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔





