Diplomacy intensifies to prevent war with Iran, four countries including Pakistan try to persuade Tehran to negotiate with the US
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) یروشلم پوسٹ کی خبر کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران۔امریکا کشیدگی کے دوران خطے کے کئی ممالک نے جنگ بندی اور ممکنہ مذاکرات کیلئے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان، عمان، مصر اور ترکی کے اعلیٰ حکام ایرانی قیادت کے ساتھ پسِ پردہ رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ تہران کو امریکا کے ساتھ بات چیت پر آمادہ کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ممالک کے حکام ایران کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرے تاکہ کسی ممکنہ معاہدے یا کم از کم جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق ایران نے اب تک کسی باضابطہ مذاکراتی عمل میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر نہیں کی اور اپنا سخت مؤقف برقرار رکھا ہوا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے گفتگو کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ معاہدے کیلئے چند بنیادی شرائط رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کرنا، جنگی نقصانات کا ازالہ یا ہرجانہ ادا کرنا اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں دینا ضروری ہوگا۔
ادھر خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ حالیہ فضائی حملوں کے بعد تہران کے مختلف علاقوں میں دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے جبکہ توانائی کے ذخائر اور دیگر اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
پاکستان، عمان، ترکی اور مصر کی یہ سفارتی کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کی اہم کوشش سمجھی جا رہی ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات ہی اس بحران کے حل کی جانب فیصلہ کن قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔




